بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

خلافتِ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خلاف پیش کی جانے والی روایتِ ابو بلج کا جائزہ

خلافتِ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خلاف پیش کی جانے والی روایتِ ابو بلج والی روایت کا جائزہ

شیعہ حضرات ایک روایت پیش کرتے ہیں کہ نبی علیہ السلام نے خلافتِ سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کو سپرد کر دی تھی۔

رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

“تم میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے ہارون (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے تھے، سوائے اس کے کہ تم نبی نہیں ہو۔ یقیناً میرے لیے یہ مناسب نہیں کہ میں جاؤں سوائے اس کے کہ تم میرے خلیفہ ہو ہر مومن کے لیے میرے بعد۔”
﴿کتاب السنۃ ابن ابی عاصم: 565/2

فہرستِ مباحث

شیعہ حضرات ایک روایت پیش کرتے ہیں کہ نبی علیہ السلام نے خلافتِ سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کو سپرد کر دی تھی۔

علت نمبر 1: تفردِ راوی اور شذوذ

“یہ وہ (حدیث) ہے جس میں اس کا راوی ثقہ (قابلِ اعتماد) راویوں کی مخالفت کرے، یا جسے اکیلا ایسا شخص روایت کرے جس کے حالات اس کے اکیلے ہونے (تنہا روایت کرنے) کو قبول کرنے کی اجازت نہ دیتے ہوں۔”

﴿الموقظۃ – ت أبی غدۃ: 51

یہ روایت شاذ ہے اور ابو بلج جو اس روایت کو بیان کرنے میں منفرد بھی ہے اور اس کا متن تمام کتبِ احادیث میں ایک ہی کتاب میں معلوم ہے۔ شیعہ حضرات سے گزارش ہے کہ اس روایت کی متابعت لائے تاکہ اس روایت کو مقبول اور معتبر سمجھا جائے اور ابو بلج صدوق حسن الحدیث راوی ہے۔

شاذ پر دليل:

1)کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہارا مجھ سے وہی مقام اور مرتبہ ہو جو ہارون (علیہ السلام) کا موسیٰ (علیہ السلام) سے تھا؟ مگر فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔

﴿صحیح البخاری: 4416

2)کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہارا مجھ سے وہی مقام اور مرتبہ ہو جو ہارون (علیہ السلام) کا موسیٰ (علیہ السلام) سے تھا؟ مگر فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔

﴿صحیح مسلم: 2404

امام ابن حجر لکھتے ہے:

“صدوق ربما أخطأ”

﴿تقریب التھذیب :1/ 1121

الامام ابن کثیر رحمہ اللہ:

اصطلاحِ حسن میں یہ کہتے ہے کہ صدوق راوی جس میں وہ منفرد ہو منکر نہ سمجھا جاتا ہو۔

﴿اختصار علوم الحدیث

ابو بلج یہ روایت عمرو بن میمون سے بیان کر رہا ہے جس پر کلام درج ذیل ہے:

امام ذہبی نے اس کی روایت جو عمرو سے ابن عباس تک جاتی ہے منکر کی جرح کی۔

﴿میزان الاعتدال 354/4

یہی کلام امام احمد بن حنبل نے کیا۔

﴿کتاب الموضوعات: 366/1

خیر اس پر تفصیلی کلام ہو بھی تو یہ شیعہ اصول سے بھی روایت ثابت نہیں ہے۔ جو آگے ذکر ہوگا۔

علت نمبر 2: راوی کی غلط فہمی

امام ابن ابی حاتم کہتے ہے:

اور اسی طرح ابو بلج یحییٰ بن سُلَیم الواسطی تھے، وہ ‘عمرو بن میمون’ کہنے میں غلطی کر جایا کرتے تھے، جبکہ وہ اصل میں ‘میمون ابو عبداللہ، مولیٰ عبدالرحمن بن سمرہ’ تھے۔

﴿کتاب العلل: 154/1

“ابو بلج الواسطی”

“وہ عمرو بن میمون کے واسطے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، اور وہ نبی ﷺ سے احادیث روایت کرتے ہیں۔ ان کی روایات میں سے ایک طویل حدیث ‘علی (رضی اللہ عنہ) کی فضیلت میں’ بھی ہے، جس کا امام احمد نے اثرم کی روایت میں انکار کیا ہے، اور ان سے پوچھا گیا: کیا عمرو بن میمون ابن عباس سے روایت کرتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: میں نہیں جانتا، میں اسے تسلیم نہیں کرتا۔”

اور حافظ عبدالغنی بن سعید المصری نے ذکر کیا ہے کہ ابو بلج نے اس (راوی کے) نام میں غلطی کی ہے کہ ‘عمرو بن میمون’، حالانکہ وہ یہ مشہور (راوی) عمرو بن میمون نہیں ہیں، بلکہ وہ تو صرف ‘میمون ابو عبداللہ، مولیٰ عبدالرحمن بن سمرہ’ ہیں، اور وہ ضعیف (راوی) ہیں۔

اور یہ (رائے) حقیقت سے بعید نہیں ہے، واللہ اعلم (اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے)۔

﴿شرح علل ترمذی: 821,822/1

اس راوی کا سماع بھی عمرو بن میمون سے ثابت نہیں اور میمون ابو عبداللہ ضعیف ہے۔ اس روایت کو منفرد بیان کرنے میں یہ شیعہ حضرات سے گزارش ہے کہ متابعت پیش کرے۔

الامام ابن حبان رحمہ اللہ کہتے ہے:

یہ غلطیاں کرتے تھے۔ جس روایت میں یہ منفرد ہوں گے وہ حجت نہیں ہوگی۔

﴿المجروحین: 464/1

علت نمبر 3: محدثین کی تضعیف

یہ روایت علمائے شیعہ کے قول کے خلاف ہے:

“(سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ جب میں نے رسول اللہ ﷺ سے غزوہ تبوک کے موقع پر عرض کیا تھا: ‘آپ مجھے پیچھے کیوں چھوڑ کر جا رہے ہیں؟’ تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ‘بیشک مدینہ (کا نظم و نسق) میرے یا تمہارے بغیر درست نہیں رہ سکتا، اور تمہارا مجھ سے وہی مقام ہے جو ہارون کا موسیٰ سے تھا، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے؟’ انہوں نے کہا: ‘اے اللہ! ہاں (ہم جانتے ہیں)۔'”

﴿الاحتجاج طبرسی: 149/1

یہاں سیدنا  علی رضی اللہ عنہ نے حدیث کا پوچھا مگر وہاں خلیفہ کہ الفاظ نہیں مگر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس کی اللہ کو گواہ بنتے ہوئے تصدیق کی۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا:

اور جواب یہ ہے کہ: یہ (روایت) مسند (متصل سند کے ساتھ) نہیں ہے بلکہ مرسل ہے، اور اگر یہ عمرو بن میمون سے ثابت بھی ہو جائے، تو اس میں ایسے الفاظ ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ ہیں، جیسے آپ کا یہ فرمانا: [کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہارا مجھ سے وہی مقام ہو جو ہارون کا موسیٰ سے تھا، سوائے اس کے کہ تم نبی نہیں ہو]، یہ مناسب نہیں کہ میں جاؤں سوائے اس کے کہ تم میرے خلیفہ ہو (یعنی تمہارا خلیفہ ہونا ضروری ہے)۔ کیونکہ نبی ﷺ ایک سے زیادہ مرتبہ (مدینہ سے باہر) تشریف لے گئے اور آپ نے مدینہ پر علی کے علاوہ دوسروں کو اپنا خلیفہ (نائب) بنایا۔

﴿منہاج السنۃ النبوۃ: 23/5

علت نمبر 4: تاریخی و عملی مخالفت

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے باہر آئے ۔ یہ اس مرض کا واقعہ ہے جس میں آپ ﷺ نے وفات پائی تھی ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپ سے پوچھا : ابوالحسن ! حضور اکرم ﷺ کا آج مزاج کیسا ہے ؟ صبح انہوں نے بتایا کہ الحمدللہ اب آپ کو افاقہ ہے ۔ پھر عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کے کہا کہ تم ، خدا کی قسم تین دن کے بعد زندگی گزارنے پر تم مجبور ہو جاؤ گے ۔ خدا کی قسم ، مجھے تو ایسے آثار نظر آ رہے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ اس مرض سے صحت نہیں پا سکیں گے ۔ موت کے وقت بنو عبدالمطلب کے چہروں کی مجھے خوب شناخت ہے ۔ اب ہمیں آپ کے پاس چلنا چاہیے اور آپ سے پوچھنا چاہیے کہ ہمارے بعد خلافت کسے ملے گی ۔ اگر ہم اس کے مستحق ہیں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا اور اگر کوئی دوسرا مستحق ہو گا تو وہ بھی معلوم ہو جائے گا اور حضور ﷺ ہمارے متعلق اپنے خلیفہ کو ممکن ہے کچھ وصیتیں کر

دیں لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ خدا کی قسم ! اگر ہم نے اس وقت آپ سے اس کے متعلق کچھ پوچھا اور آپ نے انکار کر دیا تو پھر لوگ ہمیں ہمیشہ کے لیے اس سے محروم کر دیں گے ۔ میں تو ہرگز حضور ﷺ سے اس کے متعلق کچھ نہیں پوچھوں گا ۔

﴿صحیح البخاری: 4447

یہاں کیا سیدناعلی رضی اللہ عنہ کو خلافت کا نہیں پتا تھا کہ ان کی خلافت کا اعلان ہوگیا اس کہ باوجود ان کا عمل بالکل اس کہ خلاف ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلافت ملی مگر وہ بیان کر رہے کہ میں اس کو نہیں لوں گا۔ یعنی اس ابو بلج والی روایت کا متن بھی منکر ہے۔

اہلِ بیت کا صریح انکارِ دعوائے خلافت

اس دعوے کی تردید صرف صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ہی سے نہیں بلکہ خود اہلِ بیت کے جلیل القدر افراد سے بھی ثابت ہے۔ سیدنا حسن بن حسن بن علی رحمہ اللہ (حسن المثنیٰ) نے غلو کرنے والوں کے سامنے اس عقیدے کی واضح تردید کرتے ہوئے فرمایا:

ہمیں شبابہ بن سوار الفزاری نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے الفضیل بن مرزوق نے بتایا، انہوں نے کہا: میں نے حسن بن حسن (حسن المثنیٰ) کو ایک ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا جو ان کے بارے میں مبالغہ آرائی (غلو) کر رہا تھا: “تم پر افسوس ہے! ہم سے محبت کرو.اللہ کی خاطر، اگر ہم اللہ کی اطاعت کریں تو ہم سے محبت کرو، اور اگر ہم اللہ کی نافرمانی کریں تو ہم سے بغض رکھو۔ (راوی کہتا ہے) تو ایک شخص نے ان سے کہا: “آپ لوگ رسول اللہ ﷺ کے قریبی رشتہ دار اور اہل بیت ہیں!” انہوں نے جواب دیا: “تم پر وائے ہو! اگر اللہ تعالیٰ کسی کو رسول اللہ ﷺ کی قرابت داری کی وجہ سے بغیر اطاعت کے فائدہ پہنچانے والا ہوتا، تو وہ اس شخص کو فائدہ پہنچاتا جو ہم میں سے (رسول اللہ کے) سب سے زیادہ قریب ہے یعنی ماں اور باپ کے لحاظ سے (مراد خود کو یا اپنے قریبی بڑوں کو لے رہے ہیں)۔ اللہ کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ ہم میں سے گناہ گار کو دگنا عذاب دیا جائے گا، اور میں امید کرتا ہوں کہ ہم میں سے نیکوکار کو اس کا اجر دو بار دیا جائے گا۔ تم پر افسوس ہے! اللہ سے ڈرو اور ہمارے بارے میں حق بات کہو، کیونکہ یہ اس چیز تک پہنچانے والا ہے جو تم چاہتے ہو اور ہم تم سے راضی ہوں گے۔” تم پر افسوس ہے! اللہ سے ڈرو اور ہمارے بارے میں حق بات کہو، کیونکہ یہ اس چیز تک پہنچانے والا ہے جو تم چاہتے ہو اور ہم تم سے راضی ہوں گے۔” پھر انہوں نے فرمایا: “اگر یہ دین ویسا ہی ہوتا جیسا تم لوگ کہہ رہے ہو، تو ہمارے آباء و اجداد نے ہمارے ساتھ بڑی زیادتی کی کہ انہوں نے ہمیں اس کی نہ تو کوئی خبر دی اور نہ ہی اس کی طرف مائل کیا۔” تو اس رافضی (غلو کرنے والے شخص) نے ان سے کہا: “کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا تھا: ‘جس کا میں مولیٰ ہوں، علی بھی اس کے مولیٰ ہیں’؟” انہوں نے جواب دیا: “اماں اللہ کی قسم! اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے مراد امارت (حکومت) اور سلطنت ہوتی، تو آپ ﷺ اس کا صاف صاف اعلان فرما دیتے، جس طرح آپ نے نماز، زکوٰۃ، رمضان کے روزوں اور بیت اللہ کے حج کا صاف صاف اعلان فرمایا۔ اور آپ لوگوں سے فرماتے: ‘اے لوگو! یہ تمہارے ولی (حاکم) ہیں میرے بعد۔’ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے لیے سب سے زیادہ خیر خواہ تھے۔ اور اگر معاملہ ویسا ہی ہوتا جیسا تم لوگ کہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امر (خلافت) اور قیام کے لیے علی رضی اللہ عنہ کو چنا تھا، تو علی ( رضی اللہ عنہ) تمام لوگوں میں سب سے بڑی خطا اور گناہ کے مرتکب ٹھہرتے (نعوذ باللہ) جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم کو چھوڑ دیا، اور آپ ﷺ کے حکم کے مطابق کھڑے نہ ہوئے یا لوگوں کے سامنے اس کا عذر پیش نہیں کیا۔”

 ﴿الطبقات الكبرى ابن سعد:320،319/7

اس روایت کی سند کے دونوں روای، شبابہ بن سوار المدائنی اور فضیل بن مرزوق الکوفی، ائمہ جرح و تعدیل کے نزدیک قابلِ اعتماد ہیں۔

﴿الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة   ﴿تقريب التھذيب

مزید توثیق کے لیے ان دونوں کتابوں کے متعلقہ صفحات کے اصل اسکین نیچے ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔

 اس روایت سے واضح ہوتا ہے کہ خود اہلِ بیت کے جلیل القدر فرد سیدنا حسن المثنیٰ رحمہ اللہ نے اس عقیدے کی صریح تردید فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کا کوئی واضح اور قطعی اعلان فرمایا تھا۔ انہوں نے نہ صرف حدیثِ «من كنت مولاه فعلي مولاه» سے خلافت پر استدلال کو رد کیا بلکہ یہ بھی فرمایا کہ اگر خلافت کا ایسا صریح حکم موجود ہوتا تو رسول اللہ ﷺ اسے نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج کی طرح کھلے الفاظ میں بیان فرماتے، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی اس حکم پر ضرور عمل کرتے۔ یہ اہلِ بیت کی طرف سے اس دعوے کی مضبوط تاریخی تردید ہے۔

علت نمبر 5: متن میں اضطراب اور لفظی اختلاف

اس روايت ميں ابو بلج کے الفاظ خلیفہ اس کی غلطی ہے کیوں کہ جو اس کا دوسرا طرق مسند امام احمد میں ملتا ہے اس میں الفاظ ہے:

و قال له رسول الله :(و أنت ولى فى كل مومن بعدي)

﴿مسند احمد:180,178/5

جو اس روايت ميں اس کی غلطی کو واضح کرتے۔

خلاصہ

نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے لیے تھے، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تم میرے بعد ہر مومن کے خلیفہ ہو۔ یہ روایت سند اور متن دونوں لحاظ سے سخت کمزور، شاذ اور منکر ہے۔

اس روایت کا مرکزی راوی “ابو بلج” ہے جو اگرچہ سچا ہے لیکن اس کی یادداشت کمزور تھی اور وہ روایات میں غلطیاں کر جاتا تھا۔ اس نے اس حدیث کو بیان کرنے میں دو بڑی غلطیاں کیں؛ پہلی غلطی سند میں کی کہ ایک ضعیف راوی (میمون ابو عبداللہ) کو غلطی سے مشہور ثقہ راوی (عمرو بن میمون) کہہ دیا، اور دوسری غلطی متن میں کی کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ثقہ روایات کے برعکس اپنی طرف سے “خلیفہ” کا لفظ بڑھا دیا، جبکہ اسی راوی نے مسند احمد کی دوسری روایت میں خلیفہ کے بجائے “ولی” (دوست/مددگار) کا لفظ استعمال کیا ہے جو اس کی اپنی غلطی کو خود واضح کرتا ہے۔

خود سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا اپنا طرزِ عمل بھی اس صریح خلافت کے اعلان کے خلاف ہے۔ اگر نبی ﷺ نے ان کے خلیفہ ہونے کا الٰہی اعلان فرما دیا ہوتا تو وہ خود اعتراف نہ کرتے (جیسا کہ طبرسی کی کتاب الاحتجاج میں ہے) کہ اس واقعے میں خلیفہ کا لفظ نہیں تھا، اور نہ ہی وہ نبی ﷺ کے مرضِ وفات میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے کہ “اگر ہم نے خلافت کا پوچھا اور آپ ﷺ نے انکار کر دیا تو لوگ ہمیں ہمیشہ کے لیے محروم کر دیں گے”۔ لہٰذا یہ روایت تاریخی حقائق، ائمہِ حدیث کی جرح اور خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عمل کے بالکل خلاف ہونے کی وجہ سے ناقابلِ قبول ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

تحقیق و تدوین

زائر عباس

زائر عباس

زائر عباس متبع ٹیم (Muttabi Team) کے رکن اور شیعہ مطالعات کے محقق ہیں۔ سابقہ شیعہ پس منظر رکھنے کی وجہ سے انہیں اثنا عشریہ مصادر اور عقائد کا خصوصی مطالعہ حاصل ہے۔ ان کی تحریریں بنیادی مراجع اور تحقیقی اصولوں کی روشنی میں مرتب کی جاتی ہیں۔