اللہ تعالیٰ کے لیے مذکر صیغہ کیوں استعمال ہوتا ہے؟
ملحدین کی جانب سے ایک اعتراض کیا جاتا ہے کہ:
ویسے تو خدا کی کوئی جنس نہیں لیکن اگر میں یہ کہوں گی “خدا سب کی دعا سنتی ہے” تو یہ خدا کی توہین ہو گی لیکن اگر میں کہوں گی “خدا سب کی دعائیں سنتا ہے” تو یہ اس کی عزت و تکریم اور بڑائی ہو گی۔
اللہ تعالیٰ کی ذات تمام مخلوقات سے بلند و برتر ہے۔ وہ نہ کسی انسان کی طرح ہے، نہ اس کی کوئی جنس ہے، اور نہ ہی اسے مخلوق کے اوصاف پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآنِ کریم اور احادیث میں اللہ تعالیٰ کے لیے مذکر صیغہ کیوں استعمال کیا گیا ہے، اور کیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرد ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ اعتراض زبان کے بنیادی قواعد سے ناواقفیت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ ہر زبان کے اپنے اصول اور اسالیب ہوتے ہیں، اور عربی زبان بھی انہی اصولوں کے مطابق چلتی ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں اسی اعتراض کا نہایت آسان، عقلی اور قرآنی انداز میں جواب پیش کیا گیا ہے، تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے مذکر صیغہ استعمال ہونا ہرگز جنس کی دلیل نہیں، بلکہ صرف زبان کا ایک قاعدہ اور اسلوبِ بیان ہے۔
زبان کا ایک عام اصول
اللہ تعالیٰ نہ تو مرد ہے اور نہ عورت وہ ان سب چیزوں سے پاک ہے۔
لیکن ہم انسان جب بھی کوئی جملہ بولتے ہیں تو ہمیں لفظوں کو مذکر ہے یا مؤنث تو بنانا ہی پڑتا ہے کیونکہ ہماری زبان کا قانون ایسا ہے۔
عربی زبان سمیت دنیا کی بہت سی زبانوں میں Grammatical Gender (نحوی مذکر و مؤنث) اور Natural Gender (حقیقی جنس) دو الگ چیزیں ہیں۔ کسی لفظ کا نحوی طور پر مذکر یا مؤنث ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہوتا کہ وہ حقیقت میں مرد یا عورت بھی ہے۔
اسی لیے عربی زبان میں غیر جاندار اشیاء بھی یا تو مذکر ہوتی ہیں یا مؤنث، حالانکہ ان کی کوئی حقیقی جنس نہیں ہوتی۔ عربی زبان میں Neuter Gender (غیر جنس صیغہ) موجود ہی نہیں، اس لیے ہر اسم کو قواعد کے مطابق یا مذکر بنایا جاتا ہے یا مؤنث۔
اللہ تعالیٰ کے لیے مذکر صیغہ کیوں؟
ہم اپنی روزمرہ زندگی میں بہت سی ایسی چیزوں کے لیے مذکر بولتے ہیں جو مرد بھی نہیں ہیں اور نہ عورت۔
جب ہم کہتے ہیں کہ:
سورج نکلتا ہے
پانی بہتا ہے
اب کوئی بھی عاقل انسان یہ نہیں کہتا کہ سورج یا پانی کوئی مرد ہیں۔
یہ صرف بولنے کا ایک طریقہ ہے۔
بالکل اسی طرح عربی میں بھی بے شمار ایسے الفاظ ہیں جو نحوی اعتبار سے مذکر ہیں، لیکن ان کا مرد ہونا ہرگز مراد نہیں ہوتا۔
اسی اصول کی بنا پر جب قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کے لیے “هو”،”يقول”، “يعلم” اور دیگر مذکر صیغے استعمال ہوتے ہیں تو اس سے جنس مراد نہیں ہوتی بلکہ یہ عربی زبان کا اسلوب اور نحوی قاعدہ ہے۔
ایک اور آسان مثال
اور اسی طرح ایک اور مثال ملاحظہ کیجیئے :
جب ہم کہتے ہیں کہ میرے والد آگئے ہیں۔
تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ معاذ اللہ والد زیادہ ہیں؟
نہیں ایسا نہیں ہے۔
بس ایک انداز ہے ادب کا۔
ایک بات کرنے کا اسلوب ہے۔
ایک اندازِ تکلم ہے۔
تو لہٰذا یہ زبان کا قانون ہے، عقلی طور پر بھی اسے سمجھ لیا جائے تو اعتراض کی گنجائش نہیں بنتی۔
جس طرح اردو میں احترام کی وجہ سے ایک فرد کے لیے جمع کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے، لیکن اس سے افراد کی تعداد مراد نہیں ہوتی، اسی طرح عربی زبان میں بھی بہت سے اسالیب ایسے ہیں جنہیں ان کے لسانی قواعد کے مطابق سمجھا جاتا ہے، نہ کہ ظاہری الفاظ سے غلط معنی اخذ کیے جاتے ہیں۔
زبانوں میں ایسے اسالیب عام ہیں جنہیں ہر اہلِ زبان بغیر کسی اشکال کے سمجھ لیتا ہے۔ اگر کوئی شخص صرف الفاظ کو دیکھ کر ان سے غلط نتیجہ نکالے تو وہ درحقیقت زبان کے قواعد سے ناواقف ہوتا ہے، نہ کہ عبارت میں کوئی خرابی ہوتی ہے۔
قرآن خود اس اعتراض کا جواب دیتا ہے
ليس كمثله شيء وهو السمیع البصير۔
اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے اور وہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے ۔﴿ سورۃ الشوری:11﴾
اب یہ کہ یہاں اللہ نے خود بیان کیا ہے کہ اس جیسا کچھ بھی نہیں ہے۔
تو لہذا خود سے کچھ بھی Assume کرلینا غلط ہے۔
گویا اللہ تعالیٰ نے ایک ہی آیت میں یہ اصول بھی بیان کر دیا کہ اس کی صفات ثابت ہیں، لیکن وہ مخلوق کی صفات کی طرح نہیں ہیں۔ اسی اصول کی بنا پر اہلِ سنت نہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا انکار کرتے ہیں اور نہ انہیں مخلوق جیسا قرار دیتے ہیں۔
اگر کوئی شخص صرف “وہ سنتا ہے” پڑھ کر یہ نتیجہ نکال لے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کی طرح ہے، تو یہی غلطی ﴿ليس كمثله شيء﴾ کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔
کیا مذکر صیغہ استعمال کرنے کی کوئی حکمت بھی بیان کی گئی ہے؟
بعض اہلِ علم نے اس بارے میں چند حکمتیں بھی ذکر کی ہیں، اگرچہ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ یہ صرف ممکنہ حکمتیں ہیں، قطعی علت نہیں۔ اصل علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔ اس لیے ان حکمتوں کو دین کا لازمی حصہ یا یقینی وجہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
اہلِ علم نے بیان کیا ہے کہ عربی زبان میں اصل (Default) مذکر ہوتا ہے، جبکہ مؤنث ایک خاص علامت یا سبب کے ساتھ آتا ہے۔ یعنی جب کسی اسم کے مؤنث ہونے کی کوئی واضح علامت موجود نہ ہو تو عربی زبان کے قواعد کے مطابق اسے مذکر سمجھا جاتا ہے۔اس کی واضح مثال یہ ہے کہ الشَّمْسُ (سورج) عربی میں مؤنث ہے، جبکہ القَمَرُ (چاند) مذکر ہے۔
مشہور عرب شاعر متنبی اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
وَمَا التَّأْنِيثُ لِاسْمِ الشَّمْسِ عَيْبٌ
وَلَا التَّذْكِيرُ فَخْرٌ لِلْهِلَالِ
ترجمہ:
“سورج کے نام کا مؤنث ہونا کوئی عیب نہیں، اور چاند کے نام کا مذکر ہونا کوئی فخر کی بات نہیں۔”
﴿كتاب شرح معاني شعر المتنبي لابن الافليلي: 193/1﴾
یہ شعر اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ عربی میں کسی لفظ کا مذکر یا مؤنث ہونا صرف زبان کا ایک اسلوب ہے، اس سے نہ کسی کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور نہ کسی کی کمی۔
یہ بات اردو سے مختلف ہے۔ اردو میں بہت سے الفاظ محض رواج کی بنیاد پر مؤنث یا مذکر سمجھے جاتے ہیں، جبکہ عربی میں اصل معیار صرف لغوی اور صرفی قواعد ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر عربی میں اگر کسی لفظ کے ساتھ مؤنث کی علامات موجود نہ ہوں تو اس کے ساتھ مذکر افعال اور ضمائر استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسی لیے لفظ “اللہ” کے ساتھ بھی عربی زبان کے قواعد کے مطابق مذکر ضمیر “ہو” استعمال ہوتی ہے، حالانکہ اس سے ہرگز یہ لازم نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ مرد ہیں۔
بعض علماء نے ایک اور لطیف حکمت بھی بیان کی ہے کہ قرآن کریم میں جہاں عذاب والی ہواؤں کا ذکر آیا ہے وہاں عموماً واحد مذکر صیغے استعمال ہوئے ہیں، جبکہ رحمت والی ہواؤں کے لیے جمع مؤنث کے صیغے آئے ہیں۔ ان اہلِ علم کے نزدیک مذکر صیغہ جلال، عظمت اور قوت کی طرف اشارہ کرتا ہے جبکہ مؤنث صیغہ رحمت اور نرمی کے بعض پہلوؤں کی طرف۔
لیکن یہ بات دوبارہ یاد رکھنی چاہیے کہ یہ صرف اہلِ علم کی بیان کردہ حکمتیں ہیں، قرآن و حدیث میں کہیں یہ نہیں فرمایا گیا کہ مذکر صیغہ استعمال کرنے کی یہی قطعی وجہ ہے۔ لہٰذا ان حکمتوں کو یقینی عقیدہ نہیں بنایا جائے گا، بلکہ اصل بات وہی ہے کہ عربی زبان کے قواعد کے مطابق لفظ “اللہ” کے لیے مذکر صیغہ استعمال ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر قسم کی جنس سے پاک ہیں۔
اگر یہی اعتراض درست ہو تو دوسرے مذاہب کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟
یہ اعتراض عموماً ملحدین اور بعض فیمینسٹ حلقوں کی طرف سے اس مقصد کے لیے کیا جاتا ہے کہ اسلام کو عورت مخالف مذہب ثابت کیا جائے۔ وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ چونکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ کے لیے مذکر صیغہ استعمال ہوا ہے، اس لیے گویا اسلام مرد کو عورت پر فوقیت دینا چاہتا ہے۔
لیکن اگر یہی معیار درست مان لیا جائے تو پھر دنیا کے بہت سے مذاہب کے بارے میں بھی یہی سوال اٹھنا چاہیے۔
مثلاً ہندو مذہب میں لکشمی، سرسوتی، پاروتی، درگا اور کالی جیسی متعدد دیویاں موجود ہیں جنہیں نہایت عظیم مقام حاصل ہے، بلکہ بعض صفات میں انہیں الوہیت کا درجہ دیا جاتا ہے۔
تو کیا ملحدین یہ کہیں گے کہ ہندو مذہب عورتوں کو سب سے زیادہ عزت دیتا ہے کیونکہ وہاں عورت کی صورت میں بھی معبود موجود ہیں؟
اسی طرح اسلام سے پہلے قریشِ مکہ بھی لات، عزیٰ اور منات جیسی مؤنث دیویوں کو پوجتے تھے۔
اگر صرف مؤنث الفاظ استعمال کرنا ہی عورت کے حقوق کی علامت ہوتا تو قریش کی عورتوں کو اسلام قبول کرنے میں سب سے زیادہ اعتراض ہونا چاہیے تھا کہ اسلام نے ان کی دیویوں کو باطل قرار دے دیا، لیکن تاریخ میں ایسا کوئی اعتراض موجود نہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی مذہب میں مذکر یا مؤنث الفاظ کا استعمال عورت کی عزت یا بے عزتی کا معیار نہیں ہوتا، بلکہ اصل معیار اس مذہب کی حقیقی تعلیمات ہوتی ہیں۔
اسلام نے عورت کو ماں، بیٹی، بہن اور بیوی ہر حیثیت میں جو حقوق عطا کیے ہیں، وہ الگ موضوع ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے مذکر صیغہ استعمال ہونے کو عورت کے حقوق سے جوڑنا دراصل ایک غیر علمی اور غیر منطقی اعتراض ہے۔
اعتراض کیوں پیدا ہوتا ہے؟
ایسے اعتراضات وہاں جنم لیتے ہیں جہاں علم کم ہوتا ہے۔
اگر انسان قرآن اور عقل سلیم کو سامنے رکھے تو یہ اعتراض پیدا ہی نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ نہ مرد ہیں نہ عورت اور مذکر صیغہ استعمال ہونا جنس کی دلیل نہیں ہے بلکہ یہ ایک زبان کا قاعدہ ہے اعتراض کرنے سے پہلے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے۔
ہر سوال قابل غور ضرور ہوتا ہے۔
لیکن ہر اعتراض معقول نہیں ہوتا۔
حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے اعتراضات زیادہ تر اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب کسی زبان کو اس کے اپنے قواعد کے بجائے دوسری زبان کے معیار پر پرکھا جاتا ہے۔ عربی زبان کے قواعد، اسلوبِ بیان اور نحوی اصطلاحات کو سمجھے بغیر صرف ترجمہ پڑھ کر عقیدے کے مسائل اخذ کرنا درست طریقہ نہیں۔
اگر عربی زبان کا بنیادی علم حاصل کر لیا جائے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ مذکر اور مؤنث کا تعلق ہمیشہ حقیقی جنس سے نہیں ہوتا بلکہ اکثر اوقات یہ صرف نحوی تقسیم ہوتی ہے۔ اسی لیے اہلِ علم نے ہمیشہ قرآن و سنت کو عربی زبان، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے فہم اور سلفِ امت کی تشریحات کی روشنی میں سمجھنے کی تلقین کی ہے۔
اسی وجہ سے قرآن کریم بار بار انسان کو علم حاصل کرنے، غور و فکر کرنے اور بغیر علم کے بات نہ کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
تمہیدِ سبحانی
آج کے دور میں سوشل میڈیا پر اسلام کے خلاف ایسے اعتراضات تیزی سے پھیلائے جا رہے ہیں جن کا مقصد حقیقت کی تلاش نہیں بلکہ نوجوانوں، خصوصاً مسلمان لڑکیوں کے دلوں میں اپنے دین کے بارے میں شکوک پیدا کرنا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سی نوجوان لڑکیاں، جو پہلے ہی دین کے علم، قرآن، سنت اور نماز و روزہ سے دور ہوتی ہیں، ایسے اعتراضات سن کر تحقیق کرنے کے بجائے انہی کو حق سمجھ لیتی ہیں اور آہستہ آہستہ دین سے بدظن ہونے لگتی ہیں۔
اسی طرح بعض فیمینسٹ نظریات بھی یہ تاثر دیتے ہیں کہ اسلام نے عورت کو اس کا مقام نہیں دیا، لہٰذا اللہ تعالیٰ کو مذکر صیغے سے یاد کرنا بھی اسی سوچ کا حصہ ہے۔ دوسری طرف بہت سے ملحدین بھی انہی اعتراضات کو بار بار دہراتے ہیں، کیونکہ ان کا مقصد حقیقت جاننا نہیں بلکہ مسلمانوں، خصوصاً نوجوان نسل کو دین سے دور کرنا ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس اعتراض کا جواب اہلِ علم بارہا دے چکے ہیں، لیکن جو شخص دلیل کے بجائے خواہشات کی پیروی کرتا ہو، وہ جواب سننے کے باوجود اسے قبول نہیں کرتا۔ میرے اپنے تجربے میں بھی جب کبھی اس اعتراض پر گفتگو ہوئی تو اعتراض کرنے والوں کے پاس جواب ملنے کے بعد کوئی نیا علمی اعتراض موجود نہیں تھا، بلکہ وہ صرف یہی دہراتے رہے کہ اسلام میں مرد کو زیادہ حقوق دیے گئے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ کے لیے مذکر صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں۔
اسی مقصد کے تحت میں نے اپنی قابل شاگردہ رابعہ اعجاز سے کہا کہ وہ اس اعتراض پر ایک جواب تحریر کریں۔ وہ خود ایک مسلمان لڑکی ہے، طالبہ بھی ہیں اور دیگر طالبات کو بھی تعلیم دیتی ہیں، لیکن اسے کبھی یہ اعتراض پریشان کن محسوس نہیں لگا، کیونکہ دین کا صحیح علم انسان کو ایسے شبہات سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہی فرق علم اور جہالت کے درمیان ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اکثر ایسے لوگ جو اس قسم کے اعتراضات سے متاثر ہو کر دین سے دور ہوتے ہیں، وہ پہلے ہی نماز، قرآن، سنت اور دین پر عمل سے دور ہوتے ہیں۔ پھر ایسے اعتراضات ان کے لیے صرف ایک بہانہ بن جاتے ہیں تاکہ وہ اپنے نفس کی خواہشات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔
علامہ اقبال رحمہ اللہ نے اسی حقیقت کو جواب شکوہ میں یوں بیان کیا ہے:
بے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئے
ان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیا
لا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیا
﴿بانگ درا:228﴾
خلاصہ
اللہ تعالیٰ ہر قسم کی جنس، مشابہت اور مخلوق کی صفات سے پاک ہے، اس لیے قرآن و سنت میں اللہ تعالیٰ کے لیے مذکر صیغہ استعمال ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ مرد ہیں۔ عربی زبان میں نحوی مذکر و مؤنث (Grammatical Gender) اور حقیقی جنس (Natural Gender) دو الگ چیزیں ہیں، اور چونکہ عربی میں غیر جنس (Neuter) کا صیغہ موجود نہیں، اس لیے ہر اسم قواعد کے مطابق یا مذکر ہوتا ہے یا مؤنث۔ لفظ “اللہ” بھی عربی زبان کے اسی نحوی اصول کے تحت مذکر صیغوں کے ساتھ آتا ہے۔
قرآنِ کریم خود واضح کرتا ہے کہ ليس كمثله شيء یعنی اللہ تعالیٰ کی کوئی مثال نہیں، لہٰذا صرف مذکر صیغہ دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے لیے جنس ثابت کرنا زبان اور عقیدے دونوں کے اعتبار سے غلط ہے۔ بعض اہلِ علم نے اس کی چند حکمتیں بیان کی ہیں، لیکن وہ قطعی علت نہیں بلکہ محض ممکنہ حکمتیں ہیں، اصل علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔
یہ اعتراض درحقیقت اسلام کو عورت مخالف ثابت کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اگر یہی معیار درست ہو تو ان مذاہب کو سب سے زیادہ عورت نواز ماننا پڑے گا جہاں عورتوں کو دیوی یا معبود کا درجہ دیا گیا ہے، جیسے ہندو مذہب اور زمانۂ جاہلیت کے مشرکین۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کسی مذہب میں مذکر یا مؤنث الفاظ کا استعمال عورت کی عزت یا بے عزتی کا معیار نہیں، بلکہ اصل معیار اس مذہب کی تعلیمات ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے شبہات زیادہ تر زبان کے قواعد سے ناواقفیت اور دینی علم کی کمی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ جو شخص عربی زبان، قرآن اور اہلِ علم کے منہج کو سمجھ لیتا ہے، اس کے لیے یہ اعتراض خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نہ مرد ہیں نہ عورت، اور ان کے لیے مذکر صیغہ استعمال ہونا صرف عربی زبان کا ایک نحوی قاعدہ ہے، نہ کہ جنس کی کوئی دلیل۔
واللہ اعلم بالصواب
تحقیق و تدوین
رابعہ عجاز
رابعہ بنت محمد اعجاز سلیم اہلِ سنت والجماعت (اہلِ حدیث) سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ جامعۃ التبیان المفتوحۃ سے درسِ نظامی کی طالبہ ہیں اور ساتھ ہی طالبات کو قرآنِ کریم اور سیرتِ نبوی ﷺ کی تعلیم بھی دیتی ہیں۔ وہ ٹیم متبع (Team Muttabi) کی رکن ہیں اور دینی دعوت، قرآن و سنت کی اشاعت اور نوجوان نسل کے علمی شبہات کے ازالے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔
علمی تدوین و اضافہ
محمد اویس سبحانی
محمد اویس سبحانی جامعہ اہلِ حدیث چونک دالگرا کے طالبِ علم، Muttabi ویب سائٹ کے بانی اور متبع ٹیم کے رکن ہیں۔ ان کی تحقیقی دلچسپی تقابلِ ادیان، مسیحیت، الحاد، جدید فتنوں اور اسلام پر ہونے والے اعتراضات کے علمی جائزے میں ہے۔