امیر المؤمنین عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کا مکتوب
تقدیر (القدر) کے عقیدہ کا اثبات۔
سنت کو مضبوطی سے تھامنا ۔
اسلامی تاریخ میں امیر المؤمنین عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کو علم، عدل، سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی اور منہجِ سلف سے وابستگی کے حوالے سے نمایاں مقام حاصل ہے۔ آپ ان حکمرانوں میں سے تھے جنہوں نے دین کی تعلیمات کو مضبوطی سے تھامنے اور سنتِ نبوی ﷺ کو زندہ کرنے کی کوشش کی۔زیرِ نظر تحریر میں آپ رحمہ اللہ کی طرف منسوب عقیدے کے رسائل پیش کیے جا رہے ہیں، جن میں خصوصاً تقدیر پر ایمان، سنت کو مضبوطی سے تھامنے اور سلف صالحین کے طریقے کی پیروی کی اہمیت بیان ہوئی ہے۔ ان رسائل میں آپ کی نصیحتیں اس بات پر زور دیتی ہیں کہ دین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں سنتِ نبوی ﷺ اور پہلے اہلِ علم کے طریقے کو بنیادی اہمیت دی جائے۔اس تحریر میں رسائل کے مصادر اور حوالہ جات کا تعارف پیش کرنے کے بعد اصل متن اور اس کا اردو ترجمہ درج کیا گیا ہے، تاکہ قارئین ان علمی آثار سے استفادہ کر سکیں اور عقیدے کے ان اہم مباحث کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن و سنت کو سمجھنے، ان پر عمل کرنے اور سلف صالحین کے صحیح منہج کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
صاحبِ مکتوب کا تعارف
آپ کا نام عمر بن عبد العزیز بن مروان بن حکم بن ابی العاص بن امیہ القرشی ہے۔ آپ قریش کے معزز خاندان بنو امیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کی کنیت ابو حفص اور لقب امیر المؤمنین تھا۔ آپ 61ھ میں پیدا ہوئے اور 101ھ میں وفات پائی۔آپ رحمہ اللہ اسلامی تاریخ کی ان نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہیں علم، فقہ، سنت سے وابستگی اور دینی بصیرت کے اعتبار سے بلند مقام حاصل تھا۔ اہلِ علم نے آپ کے علم و فضل اور سنت کی خدمت کا اعتراف کیا ہے۔ آپ کے علمی مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ متعدد ائمہ و محدثین نے آپ کی تعریف کی اور آپ کو اہلِ علم میں ممتاز قرار دیا۔
اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
اس مکتوب کا ماخذ
یہ مکتوب حافظ عبد الرحمن بن محمد بن إسحاق بن منده رحمہ اللہ (وفات: 470ھ) کی﴿ کتاب الرد على من يقول الم حرف :ص: 35﴾ سے اخذ کیا گیا ہے۔
حافظ ابن مندہ نے اس مکتوب کو اپنی سند کے ساتھ مکمل روایت کیا ہے، اور مجھے ان کے علاوہ کوئی دوسرا شخص نہیں ملا جس نے اسے روایت کیا ہو۔
البتہ اس مکتوب کی سند میں مصنف کے شیخ احمد بن أبي نصر محمد بن سلمان المعداني موجود ہیں۔ ان کے بارے میں امام ذہبی رحمہ اللہ نے﴿ميزان الاعتدال :29/4﴾میں فرمایا ہے:
“انہوں نے امام طبرانی سے ایک من گھڑت روایت نقل کی، اور اسی کی وجہ سے ان پر الزام لگایا گیا۔”
تاہم اس مکتوب کا متن صحیح اسلامی عقیدے کے موافق ہے، اور اس کے مضامین کی تائید قرآنِ کریم، متعدد صحیح احادیث اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ثابت شدہ آثار سے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ علم اس کے متن کو انہی شرعی دلائل کی روشنی میں سمجھتے اور پرکھتے ہیں۔
اس مکتوب کے متن کی تحقیق میں اس کتاب کے ایک قدیم مخطوطہ نسخے پر اعتماد کیا گیا ہے، جو دمشق کی الظاہریہ لائبریری کے مخطوطات میں ﴿مجموعہ نمبر :101﴾ کے ضمن میں محفوظ ہے۔
علماء کے نزدیک ان کا مقام
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ہم ان کے پاس انہیں علم سکھانے کے لیے آئے تھے، لیکن جب تک ان کے پاس رہے، خود ہی ان سے علم سیکھتے رہے۔‘‘
میمون بن مہران رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’عمر بن عبد العزیز کے سامنے علماء کی حیثیت شاگردوں جیسی تھی۔‘‘
انہوں نے یہ بھی فرمایا:
’’عمر بن عبد العزیز علماء کے استاد تھے۔‘‘
علی بن مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ عمر بن عبد العزیز سے محبت کرتا ہے، ان کی خوبیوں کا ذکر کرتا ہے اور انہیں پھیلاتا ہے، تو سمجھ لو کہ ان شاء اللہ اس کے اندر کوئی نہ کوئی بھلائی ضرور ہے۔‘‘
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’عمر بن عبد العزیز ایک ایسے دور میں آئے جو تاریکی سے بھرا ہوا تھا، تو انہوں نے اسے روشن کر دیا۔ وہ ایسی سنتوں کی طرف آئے جنہیں مٹا دیا گیا تھا، تو انہیں دوبارہ زندہ کر دیا۔ وہ اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے تھے اور نہ اللہ کے معاملے میں کسی سے خوف کھاتے تھے۔ انہوں نے ایسی سنتوں کو زندہ کیا جو مٹا دی گئی تھیں، اور ایسے احکام کو دوبارہ جاری کیا جو فراموش کر دیے گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔‘‘
﴿السنة للخلال:22﴾
امام مالک بن انس اور سفیان بن عیینہ رحمہما اللہ نے بھی انہیں امام قرار دیا ہے۔
ان کے حالاتِ زندگی کے مراجع:
﴿تہذیب الکمال:432/21 ﴾اور ﴿سیراعلام النبلاء :114/5﴾
مکتوب کی سند اور متن
یہ رسالہ درج ذیل کتابوں سے جمع کیا گیا ہے:
1۔ سنن ابی داؤد : 4612۔ قال الشيخ الالباني: صحيح مقطوع
2۔ الشریعۃ، امام آجری رحمہ اللہ
3۔ فی ما جاء في البدع، ابن وضاح رحمہ اللہ، روایت نمبر 74۔
4۔ الابانۃ الكبرى، ابن بطہ رحمہ اللہ، روایت نمبر 164۔
امام ابو داؤد رحمہ اللہ اپنی کتاب السنن میں فرماتے ہیں:
ہم سے ابن کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے خبر دی۔
اور ہم سے ربیع بن سلیمان مؤذن نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے اسد بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے حماد بن دلیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے سفیان ثوری کو نضر کے واسطے سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا۔
اور ہم سے ہناد بن سری نے قبیصہ کے واسطے سے بیان کیا۔ ان دونوں نے کہا: ہم سے ابو رجاء نے، ابو الصلت کے واسطے سے بیان کیا۔
یہ ابن کثیر کی روایت کے الفاظ ہیں، جبکہ دوسرے راویوں کی روایت کا مفہوم بھی یہی ہے۔
1۔ سوال اور جواب کا آغاز
ایک شخص نے عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کو خط لکھ کر ان سے تقدیر کے بارے میں سوال کیا۔
آپ نے اسے جواب میں لکھا:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ کے بندے، امیر المؤمنین عمر بن عبد العزیز کی طرف سے عَدِی بن اَرطاۃ کے نام۔
اما بعد!
میں اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔
2۔ تقویٰ، سنت کی پیروی اور نئی باتوں سے بچنے کی نصیحت
میں تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے، اس کے دین کے معاملے میں اعتدال اختیار کرنے، اس کے رسول ﷺ کی سنت کی پیروی کرنے اور ان نئی باتوں کو چھوڑ دینے کی نصیحت کرتا ہوں جنہیں لوگوں نے اس وقت ایجاد کیا جب رسول اللہ ﷺ کی سنت پہلے ہی جاری ہو چکی تھی اور اس پر عمل کرنے والوں کو ان نئی باتوں کی ضرورت نہیں تھی۔
لہٰذا سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھو، کیونکہ اللہ کے حکم سے یہی تمہارے لیے گمراہی سے بچاؤ کا ذریعہ بنے گی۔
پھر یہ بات جان لو کہ لوگوں نے جب بھی کوئی بدعت ایجاد کی ہے، اس سے پہلے اس کے بارے میں کوئی ایسی بات موجود رہی ہے جو اس بدعت کی تردید کرتی ہے یا اس سے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔
بے شک سنت اسی ہستی نے مقرر کی ہے جو یہ جانتی تھی کہ اس کی مخالفت میں غلطی، لغزش، حماقت اور دین میں بلاوجہ گہرائی میں پڑنے جیسے نقصانات ہیں۔
لہٰذا اپنے لیے اسی طریقے کو پسند کرو جسے پہلے لوگوں نے اپنے لیے پسند کیا تھا۔
کیونکہ وہ علم کی بنیاد پر رکے تھے اور گہری بصیرت رکھتے ہوئے آگے بڑھنے سے باز رہے تھے۔
معاملات کی حقیقت کو سمجھنے اور ان کی تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت میں وہ زیادہ مضبوط تھے، اور جن دینی فضائل اور بھلائیوں پر وہ قائم تھے، ان میں ان کا مقام زیادہ بلند تھا۔
اگر وہ ہدایت پر تھے جس پر تم بھی قائم ہونے کا دعویٰ کرتے ہو، تو یقیناً وہ تم سے پہلے اس ہدایت تک پہنچ چکے تھے۔
اور اگر تم یہ کہو کہ کوئی ایسا معاملہ بھی ہے جو ان کے بعد پیدا ہوا ہے، تو یاد رکھو کہ اسے ان کے بعد صرف اسی شخص نے ایجاد کیا ہے جس نے ان کے راستے کو چھوڑ کر کسی دوسرے راستے کی پیروی کی اور اپنے آپ کو ان سے بہتر سمجھتے ہوئے ان سے بے نیاز ہو گیا۔
حالانکہ وہ پہلے لوگ تم سے سبقت لے جانے والے تھے۔
وہ اس معاملے کے بارے میں اتنی بات بیان کر چکے ہیں جو ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہے، اور اس کی ایسی وضاحت کر چکے ہیں جو دل کو اطمینان دینے کے لیے کافی ہے۔
ان سے نیچے رہنے والے ان کے مقام تک نہیں پہنچ سکتے، اور ان سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے والے حد سے زیادہ مشقت میں پڑ کر خود کو تھکا دیتے ہیں۔
کچھ لوگ ان سے پیچھے رہ گئے، چنانچہ انہوں نے حق ادا کرنے میں کوتاہی کی۔
اور کچھ لوگ ان سے آگے نکلنے کی کوشش کرنے لگے، چنانچہ انہوں نے حد سے تجاوز کیا۔
جبکہ وہ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان سیدھی ہدایت پر قائم تھے۔
3۔ تقدیر کے بارے میں سوال
تم نے مجھ سے اللہ کی تقدیر کو تسلیم کرنے کے بارے میں پوچھا ہے۔
اللہ کی توفیق سے تم نے اس معاملے میں ایک ایسے شخص سے سوال کیا ہے جو اس کی حقیقت سے واقف ہے۔
اللہ کی قسم، میں لوگوں کی ایجاد کردہ نئی باتوں میں سے کسی ایسی بات کو نہیں جانتا جس کا اثر تقدیر کو تسلیم کرنے کے مسئلے سے زیادہ واضح ہو اور جس کی بنیاد اس سے زیادہ مضبوط ہو۔
جاہلیت کے دور میں بھی لوگ تقدیر کا ذکر اپنی گفتگو اور اپنے اشعار میں کیا کرتے تھے۔ وہ اپنی چھوٹی بڑی محرومیوں اور مصیبتوں پر اسی کے ذریعے اپنے دلوں کو تسلی دیتے تھے۔
پھر اسلام آیا، تو اسلام نے تقدیر کے عقیدے کو مزید مضبوطی اور قوت ہی عطا کی۔
رسول اللہ ﷺ نے متعدد احادیث میں تقدیر کا ذکر فرمایا؛ صرف ایک یا دو احادیث میں نہیں، بلکہ اس سے بھی زیادہ مرتبہ۔
مسلمانوں نے آپ ﷺ سے یہ باتیں سنیں، پھر آپ ﷺ کی زندگی میں بھی اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد بھی یقین، تصدیق اور اپنے رب کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے تقدیر کا ذکر کرتے رہے۔
وہ اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ اپنی کمزوری کے باعث وہ اس تصور سے بھی عاجز ہیں کہ کوئی چیز ایسی ہو سکتی ہے جس کا علم اللہ تعالیٰ کو نہ ہو، جسے اس کی کتاب میں شمار نہ کیا گیا ہو اور جس کے بارے میں اس کی تقدیر نافذ نہ ہوئی ہو۔
اور یہ عقیدہ اللہ تعالیٰ کی محکم کتاب میں بھی واضح طور پر موجود ہے۔ انہوں نے اسی کتاب سے اس عقیدے کو سمجھا اور اسی سے اس کی تعلیم حاصل کی۔
4۔ قرآن کی آیات اور تقدیر کے بارے میں سوالات
اگر تم یہ کہو کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں آیت کیوں نازل فرمائی؟ یا اس نے فلاں بات کیوں فرمائی؟
تو یاد رکھو کہ پہلے لوگوں نے بھی قرآن کی وہی آیات پڑھی تھیں جو تم پڑھتے ہو، اور انہوں نے قرآن کی تفسیر اور اس کے مفہوم میں سے وہ باتیں بھی جانی تھیں جن سے تم ناواقف ہو۔
اس سب کے باوجود انہوں نے یہ کہا:
ہر چیز اللہ کی کتاب اور اس کی تقدیر کے مطابق ہے۔بدبختی بھی لکھ دی گئی ہے، اور جو کچھ مقدر ہے وہ ہو کر رہے گا۔اللہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے، اور جو وہ نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا۔اور ہم اپنے لیے نہ کسی نقصان کے مالک ہیں اور نہ کسی نفع کے۔
اور تم پر سلام ہو۔
5۔ تقدیر کا انکار کرنے والوں کے بارے میں حکم
تم نے مجھے خط لکھ کر ان لوگوں کے بارے میں حکم پوچھا ہے جو تقدیر کا انکار کرتے ہیں۔لہٰذا ان میں سے جس شخص کو تم اپنے سامنے لاؤ، اسے سخت سزا کے طور پر مارو اور قید خانے میں بند کر دو۔اگر وہ اپنے برے عقیدے سے توبہ کر لے تو ٹھیک، ورنہ اس کی گردن اڑا دو۔
اس مکتوب سے حاصل ہونے والے عقائد
۔۔عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے اس جواب سے بدعت اور سنت کی راہ بالکل واضح ہو گئی اور یہ بات بھی صاف ہو گئی کہ کسی بھی عمل سے پہلے قرآن و سنت کو دیکھنا چاہئے، اگر ان میں نہ ملے تو صحابہ کرام اور تابعین عظام کو دیکھنا چاہئے کہ ان کا عمل اس پر تھا یا نہیں، اگر ہم اس معیار کو اختیار کر لیں تو اللہ کے فضل سے سارے اختلافات دور ہو جائیں اور بے شمار بدعات ہمیشہ کے لئے دم توڑ جائیں، لیکن ہم نے بعد کے لوگوں کی روش کو اپنا رکھا ہے اور بدعات کی گرم بازاری میں مگن ہیں۔مزیدیہ کہ:
۔۔اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا اور تقویٰ اختیار کرنا۔
۔۔دین کے معاملے میں اعتدال اور میانہ روی اختیار کرنا۔
۔۔رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی کرنا واجب ہے۔
۔۔سنتِ نبوی ﷺ کو مضبوطی سے تھامنا گمراہی سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔
۔۔دین میں نئی باتیں ایجاد کرنا بدعت ہے۔
۔۔بدعت سے بچنا اور اس کی مخالفت کرنا ضروری ہے۔
۔۔سلف صالحین کے طریقے کو اختیار کرنا اور ان کی پیروی کرنا۔
۔۔سلف صالحین کے طریقے کی مخالفت سے بچنا۔
۔۔سلف صالحین علم و بصیرت میں بعد والوں سے ممتاز تھے۔
۔۔دین کے معاملے میں سلف صالحین سے آگے بڑھنے یا ان سے پیچھے رہنے، دونوں سے بچنا چاہیے۔
۔۔اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔
۔۔تقدیر کا عقیدہ قرآن و سنت سے ثابت ہے۔
۔۔تقدیر کا ذکر جاہلیت کے دور میں بھی لوگوں کی گفتگو اور اشعار میں موجود تھا۔
۔۔رسول اللہ ﷺ نے متعدد احادیث میں تقدیر کا بیان فرمایا۔
۔۔صحابہ اور ابتدائی مسلمانوں نے تقدیر پر ایمان رکھا اور اسے تسلیم کیا۔
۔۔اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو محیط ہے، کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔
۔۔ہر چیز اللہ تعالیٰ کی کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔
۔۔تمام واقعات اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق پیش آتے ہیں۔
۔۔جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا۔
۔۔انسان اپنے لیے ذاتی طور پر نفع و نقصان کا مالک نہیں۔
۔۔تقدیر پر ایمان رکھنے کے باوجود نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ضروری ہے۔
۔۔تقدیر کا انکار کرنے والوں کے بارے میں سخت موقف اختیار کیا گیا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
تحقیق کی مزید توثیق کے لیے متعلقہ صفحات کے اصل اسکین نیچے ملاحظہ کریں۔
ازقلم

محمد اویس سبحانی
محمد اویس سبحانی جامعہ اہلِ حدیث چونک دالگرا کے طالبِ علم، Muttabi ویب سائٹ کے بانی اور متبع ٹیم کے رکن ہیں۔ تحقیقی دلچسپی تقابلِ ادیان، مسیحیت، الحاد، جدید فتنوں اور اسلام پر ہونے والے اعتراضات کے علمی جائزے میں ہے۔