بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

خیر القرون میں تدوین حدیث

خیر القرون میں تدوین حدیث

سیدنا عبدالله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ سے جو کچھ بھی سنتا حفظ کرنے کی غرض سے لکھ لیا کرتا تھا، پس قریش نے مجھے منع کیا اور کہا: تم رسول اللہ ﷺ سے جو کچھ بھی سنتے ہو لکھ لیتے ہو، حالانکہ رسول الله ﷺ بھی بشر ہیں اور ناراضگی و خوشی میں کلام کرتے ہیں، چنانچہ میں نے لکھنا چھوڑ دیا اور رسول اللہ ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے اپنی انگلی سے اپنے دہن مبارک کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”لکھو! قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس سے حق و صداقت کے سوا کچھ نہیں نکلا ہے۔“

(اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [سنن دارمي: 501]،[مسند أحمد 163/2، 192، 174] ، [أبوداؤد 3646، 3504] ، [ترمذي 1234] ، [نسائي 288/7، 295] ، [دارقطني 74/3 -75] ، [شرح معاني الآثار 64/4] ، [المنتقى لابن الجارود 601] ، [الحاكم 17/2] ، وغيرھم)

عہدِ نبوی میں کتابتِ حدیث

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: “ما من أصحاب النبي ﷺ أحد أكثر حديثا مني إلا ما كان من عبد الله بن عمرو فإنه كان يكتب ولا أكتب” “نبی ﷺ کے صحابہ میں سے کوئی بھی مجھ سے زیادہ آپ ﷺ سے حدیثیں بیان کرنے والا نہیں سوائے عبداللہ بن عمرو (بن العاص) کے کیونکہ وہ لکھتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا۔” (صحیح بخاری: 113)

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ سے جو بھی سنتا تو ہر شے لکھ لیتا تھا، میں اسے یاد کرنا چاہتا تھا (لیکن) قریشیوں نے مجھے منع کر دیا اور کہا: “تم رسول اللہ ﷺ سے سن کر ہر چیز لکھ لیتے ہو اور رسول اللہ ﷺ بشر ہیں، کبھی آپ غصے میں ہوتے ہیں اور کبھی خوشی کی حالت میں” تو میں نے لکھنا چھوڑ دیا پھر رسول اللہ ﷺ سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ((اكتب فوالذي نفسي بيده ما خرج مني إلا حق.)) “لکھو! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میری زبان سے صرف حق ہی نکلتا ہے۔” (مسند احمد: 162/2، ح: 6510، مصنف ابن ابی شیبہ: 49/9، سنن ابی داؤد: 3646، مسند دارمی: 490 وسندہ صحیح)

القبيل تابعی (حی بن ہانی المعافری / حسن الحدیث) سے روایت ہے کہ ہم (سیدنا) عبداللہ بن عمرو العاص رضی اللہ عنہ  کے پاس موجود تھے کہ اُن سے پوچھا گیا: دو شہروں میں سے کون سا شہر سب سے پہلے فتح ہوگا: قسطنطنیہ یا رُومیہ؟ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حلقوں والا صندوق منگوایا پھر اس سے ایک کتاب نکالی اور فرمایا: ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس لکھ رہے تھے کہ جب آپ سے پوچھا گیا: دو شہروں میں سے کون سا شہر سب سے پہلے فتح ہوگا: قسطنطنیہ یا رُومیہ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ((مدينہ هرقل تفتح اولا)) “پہلے ہرقل کا شہر یعنی قسطنطنیہ فتح ہوگا۔” (مسند احمد: 176/2، ح: 6645 وسندہ حسن وصححہ الحاکم: 55/4 ووافقہ الذھبی واخطاہ من ضعفہ)

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص  رضی اللہ عنہ کی احادیث کا ایک مجموعہ عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی سند کے ساتھ الصحیفۃ الصادقہ کے نام سے مشہور ہے۔

عہدِ صحابہ میں کتابتِ حدیث

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکررضی اللہ عنہ نے ان کے لیے یہ کتاب لکھ کر انہیں بحرین کی طرف بھیجا تھا: “بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، یہ فرض صدقات کے مسائل ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں پر فرض قرار دیے ہیں۔” (صحیح بخاری: 1454)

جلیل القدر تابعی ابوعثمان عبدالرحمٰن بن مل النھدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: “ہم عتبہ بن فرقد کے ساتھ آذربائیجان یا شام میں تھے کہ عمرؓ کی کتاب ہمارے پاس پہنچی: اما بعد! بے شک رسول اللہ ﷺ نے ریشم سے (مردوں کو) منع فرمایا ہے سوائے اتنے (یعنی) دو انگلیوں کے برابر۔” (صحیح مسلم: 2069، دارالسلام: 5415)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن خطبہ فرمایا: اے اللہ! میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں نے شہروں کے امراء کو صرف اس لیے بھیجا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان انصاف کریں، انھیں دین سکھائیں اور نبی ﷺ کی سنت کی تعلیم دیں۔ (صحیح مسلم: 567، دارالسلام: 1258)

سیدنا ابوحجیفہؓ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا  آپ کے پاس کوئی ایسی چیز بھی ہے جو قرآن میں نہیں ہے؟ یا لوگوں کے پاس نہیں ہے؟ تو انھوں (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے دانہ پھاڑ کر اگایا اور مخلوق کو پیدا کیا! ہمارے پاس قرآن کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے سوائے فہم کے جو آدمی کو کتاب کے بارے میں عطا ہوتا ہے اور جو کچھ اس صحیفے میں ہے۔ ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اس صحیفے میں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: دیت (تاوانِ خون)، قیدیوں کو آزاد کرنے (کے مسائل) اور یہ کہ مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے۔

(صحیح بخاری: 6903)

بشیر بن نھیک رحمہ اللہ سے روایت ہے: میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے جو کچھ سنتا لکھ لیتا تھا پھر جب میں آپ سے رخصت ہونے کا ارادہ کیا تو کتاب لے کر گیا اور آپ کو کتاب پڑھ کر سنائی اور کہا: میں نے آپ سے جو سنا ہے وہ یہ ہے؟ انھوں نے فرمایا: جی ہاں۔

(مسند الدارمی: 500، العلم لابی خیثمہ: 137، مصنف ابن ابی شیبہ: 50/9 وسندہ صحیح)

ابن عوف رحمہ اللہ سے روایت ہے: ہم حسن (بصری) کے پاس گئے تو انھوں نے ہمیں سمرہ (بن جندب رضی اللہ عنہ) کی کتاب دکھائی۔

(العلل للامام احمد: 2187 وسندہ صحیح)

معن (بن عبد الرحمن) سے روایت ہے کہ میرے سامنے عبد الرحمن بن عبد اللہ بن (بن مسعود) نے ایک کتاب نکالی اور قسم کھا کر کہا کہ یہ ان کے والد (سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کے ہاتھ کی لکھی ہوئی کتاب ہے۔

(مصنف ابن ابی شیبہ: 50/9، ح: 26420 وسندہ صحیح)

تابعینِ عظام اور تدوینِ حدیث

تابعینِ کرام کے دور میں کثرت سے احادیث لکھی گئیں جن میں سے بعض کے حوالے درج ذیل ہیں:

1: عبد اللہ بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن عبد العزیز (رحمہ اللہ) نے اہل مدینہ کی طرف لکھ کر (حکم) بھیجا: رسول اللہ ﷺ کی حدیثیں تلاش کر کے لکھ لو کیونکہ مجھے علم اور اہلِ علم کے ختم ہونے کا ڈر ہے۔ (مسند الدارمی: 494، دوسرا نسخہ: 505 وسندہ صحیح، صحیح بخاری قبل ح: 100، بنحو المعنی)

2: سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں رات کو مکے کے راستے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ سفر کر رہا تھا، وہ مجھے کوئی حدیث سناتے تو میں اسے کجا وے پر لکھ لیتا پھر صبح کو اسے اپنے پاس (کتاب میں) لکھ لیتا تھا۔ (سنن الدارمی: 516/505 وسندہ صحیح)

3: موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہمارے پاس قریب (رحمہ اللہ) نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی کتابوں میں سے ایک اونٹ کے وزن کے برابر کتابیں رکھیں پھر جب علی بن عبد اللہ بن عباس کو کسی کتاب کی ضرورت ہوتی تو لکھ بھیجتے: فلاں کتاب میری طرف بھیج دیں تو وہ اس کتاب کو لکھ کر ایک نسخہ ان کے پاس بھیج دیتے تھے۔ (طبقات ابن سعد: 293/5 وسندہ صحیح)

4: سلیمان بن موسیٰ (صدوق راوی) سے روایت ہے کہ انہوں نے دیکھا، نافع مولیٰ ابن عمر اپنا علم لکھواتے اور یہ آپ کے سامنے لکھا جاتا تھا۔ (مسند الدارمی: 513 وسندہ صحیح)

5: مشہور ثقہ امام ایوب السختیانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ (مشہور ثقہ تابعی) ابوقلابہ (عبد اللہ بن زید الجرمی رحمہ اللہ) نے میرے لیے اپنی کتابوں کی وصیت فرمائی (کہ میری کتابیں ایوب کو دے دو) تو میں یہ کتابیں شام سے لایا، ان کے کرائے پر اس سے زیادہ درہم ادا کیے گئے تھے۔ (طبقات ابن سعد: 251/7 وسندہ صحیح)

6: صالح بن کیسان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ پھر انہوں (زبری) نے لکھا اور میں نے (صحابہ کے آثار کو) نہیں لکھا تو وہ کامیاب ہو گئے اور میں ضائع ہو گیا۔

7: محمد بن اسحاق بن یسار امام المغازی (تابعی صغیر) کی کتاب السیرۃ کا ایک حصہ 727 صفحات میں مطبوع ہے۔

8: مشہور ثقہ تابعی ہمام بن منبہ رحمہ اللہ کا جمع کردہ صحیفہ شائع ہو کر علمی دنیا میں بہت مشہور ہے، اس مجموعے میں ایک سو اڑتالیس (148) احادیث ہیں۔

9: عبید المکتب سے روایت ہے کہ میں نے لوگوں کو (مشہور مفسر قرآن) مجاہد (بن جبر تابعی) کے سامنے تفسیر لکھتے ہوئے دیکھا ہے۔

اس طرح کے اور بھی کئی حوالے کتبِ حدیث و کتبِ رجال وغیرہ میں موجود ہیں۔

عہدِ تبع تابعین میں کتابتِ حدیث

 اس دور میں بے شمار کتابیں لکھی گئیں جن میں سے کچھ اہم مثالیں یہ ہیں:

موطا امام مالک (روایۃ یحییٰ بن یحییٰ): 1955 احادیث پر مشتمل ہے۔

ایک تنبیہ کے طور پر درج ہے کہ امام ابو حنیفہ نے امام مالک کی احادیث کو ابراہیم بن طہمان سے سن کر لکھا تھا (کتاب الجرح والتعدیل: 3/1، وسندہ صحیح)، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہ امام مالک کے شاگردوں میں سے تھے۔

کتاب المناسک امام سعید بن ابی عروبہ العدوی (متوفی 156ھ): 163 احادیث پر مشتمل ہے۔

کتاب الزہد امام وکیع بن الجراح (متوفی 197ھ): 539 احادیث پر مشتمل ہے۔

کتاب الزہد امام عبد اللہ بن المبارک: 1627 احادیث پر مشتمل ہے۔

دیگر مجموعے: زوائد نعیم بن حماد (436 احادیث)، مسند عبد اللہ بن المبارک (289 احادیث)، کتاب البر والصلۃ (353 احادیث)، اور کتاب الجہاد (262 احادیث)، جن کی کل تعداد 2967 احادیث بنتی ہے۔

کتاب السیر امام ابی اسحاق الفزاری: 659 احادیث پر مشتمل ہے۔

کتاب الدعاء امام محمد بن فضیل بن غزوان میں 161 احادیث ہیں۔

اس سنہری دور کے بعد حدیث کی اتنی کتب لکھی گئیں جن کا شمار بے حد مشکل ہے، مثلاً:

مصنف عبدالرزاق میں 21033 احادیث ہیں۔

مصنف ابن ابی شیبہ میں 37930 احادیث ہیں۔

مسند ابن ابی شیبہ میں 998 احادیث ہیں۔

مسند احمد میں 28199 احادیث ہیں۔

مسند ابی داؤد الطیالسی میں 6767 احادیث ہیں۔

خلاصہ

مذکورہ دلائل سے واضح ہوتا ہے کہ حدیث کی کتابت کا آغاز عہدِ نبوی ﷺ ہی میں ہو چکا تھا، اور نبی کریم ﷺ نے بعض صحابۂ کرام، خصوصاً سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کو احادیث لکھنے کی اجازت بلکہ ترغیب بھی دی۔ اس کے بعد صحابۂ کرام، تابعین اور تبع تابعین نے نہ صرف احادیث کو محفوظ کیا بلکہ ان کی باقاعدہ تدوین، نقل اور تدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ مختلف صحائف، کتب اور مجموعاتِ حدیث اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں کہ احادیث نبی کریم ﷺ کی وفات کے ڈھائی سو سال بعد اچانک جمع نہیں کی گئیں، بلکہ ہر دور میں انہیں پوری امانت، احتیاط اور تسلسل کے ساتھ لکھا، محفوظ کیا اور آگے منتقل کیا جاتا رہا۔ لہٰذا یہ دعویٰ کہ حدیث کی تدوین بہت بعد میں ہوئی، تاریخی حقائق اور مستند روایات کے سراسر خلاف ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

تحقیق و تدوین

فیضان ظفر

حسنین علی

حسنین متبع ٹیم (Muttabi Team) کے رکن اور محقق ہیں۔آپ تقابلِ ادیان، بین المسالک اختلافات اور علمی ردود کے محقق ہیں۔

تحقیق کی مزید توثیق کے لیے متعلقہ صفحات کے اصل اسکین نیچے ملاحظہ کریں۔

متعلقہ مصنوعات

No product found.