بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) کسی مسلمان بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرو

متفرق ابواب
باب: کسی مسلمان بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرو
احادیث:1

حدیث نمبر: 100

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يُشِيرُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ بِالسِّلاحِ، فَإِنَّهُ لا يَدْرِي أَحَدُكُمْ لَعَلَّ الشَّيْطَانَ أَنْ يَنْزِعَ فِي يَدِهِ، فَيَقَعَ فِي حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا يشير احدكم إلى اخيه بالسلاح، فإنه لا يدري احدكم لعل الشيطان ان ينزع في يده، فيقع في حفرة من النار"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے، (کیونکہ) وہ نہیں جانتا کہ ممکن ہے شیطان اس کے ہاتھ سے ہتھیار (اسلحہ) چھڑوا دے (اور وہ کسی کو مار بیٹھے) جس کے سبب وہ (مارنے والا) جہنم کے گڑھے میں جا گرے گا۔“
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم