کیا نبی کریم ﷺنے حدیث لکھنے سے منع فرمایا تھا ؟
” ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تشریف لائے جب ہم آپ ﷺکی باتیں لکھ رہے تھے- آپ نے فرمایا
“کیا لکھ رہے ہو؟”
ہم نے عرض کیا :
“وہ باتیں جو ہم نے آپ ﷺ سے سنی ہیں۔”
اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا :
“تم کتاب اللہ کے سوا کوئی اور کتاب چاہتے ہو؟ تم سے پہلی امتوں کو اس کے سوا کسی چیز نے نہیں گمراہ کیا کہ انہوں نے کتاب اللہ کے ساتھ دیگر کتابیں بھی لکھ لیں۔”
﴿مسند احمد عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ﴾
بعض لوگ صحیح مسلم اور دیگر کتبِ حدیث میں وارد ان روایات کو پیش کرتے ہیں جن میں نبی کریم ﷺ نے قرآنِ مجید کے علاوہ کچھ لکھنے سے منع فرمایا تھا، پھر اسی بنیاد پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ابتدائی دور میں حدیث لکھی ہی نہیں گئی، یا یہ کہ کتابتِ حدیث ہمیشہ کے لیے ممنوع تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ استدلال صحیح نہیں۔ اگر کتابتِ حدیث ہمیشہ کے لیے ممنوع ہوتی تو خود صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کبھی حدیث نہ لکھتے، حالانکہ متعدد صحابہ نے نبی کریم ﷺ کی اجازت سے احادیث لکھیں، اپنے صحیفے مرتب کیے، دوسروں کو نقل کروائے، اور ان میں سے بہت سے صحائف آج بھی تاریخ اور کتبِ حدیث میں محفوظ ہیں۔
درحقیقت ممانعت کا تعلق ایک مخصوص حالت سے تھا، جب قرآنِ مجید کے ساتھ حدیث کے خلط ملط ہونے کا اندیشہ موجود تھا۔ جب یہ سبب ختم ہوگیا تو نبی کریم ﷺ نے خود حدیث لکھنے کی اجازت دی، بلکہ بعض صحابۂ کرام کو اس کی ترغیب بھی دی۔ اسی لیے بعد کے دور میں صحابہ، تابعین اور تبع تابعین نے بڑے پیمانے پر کتابتِ حدیث کا اہتمام کیا۔
ذیل میں ہم ممانعتِ کتابت والی روایات، ان کا صحیح مفہوم، ائمہ کے اقوال، صحابۂ کرام کے عملی نمونے اور حدیث لکھنے کے تاریخی شواہد کا جائزہ پیش کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ کتابتِ حدیث نہ صرف جائز تھی بلکہ عہدِ نبوی ہی میں اس کی بنیاد رکھ دی گئی تھی۔
ممانعتِ کتابتِ حدیث کی روایات
پہلے ممانعت کتابت حدیث کی دو روایات پڑھیے :
” ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تشریف لائے جب ہم آپ ﷺ کی باتیں لکھ رہے تھے- آپ نے فرمایا
“کیا لکھ رہے ہو؟”
ہم نے عرض کیا :
“وہ باتیں جو ہم نے آپ ﷺ سے سنی ہیں۔”
اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا :
“تم کتاب اللہ کے سوا کوئی اور کتاب چاہتے ہو؟ تم سے پہلی امتوں کو اس کے سوا کسی چیز نے نہیں گمراہ کیا کہ انہوں نے کتاب اللہ کے ساتھ دیگر کتابیں بھی لکھ لیں۔“
﴿مسند احمد عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ﴾
عن أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، قَالَ: «اسْتَأْذَنَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الكِتَابَةِ فَلَمْ يَأْذَنْ لَنَا»: «وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الوَجْهِ أَيْضًا عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ» رَوَاهُ هَمَّامٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ
﴿جامع الترمذي ج2ص102﴾
“سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے آنحضرت ﷺ سے لکھنے کی اجازت طلب کی تو آپ ﷺنے اجازت نہ دی۔ اس کے علاوہ یہ حدیث زید بن اسلم سے بھی مروی ہے۔”
ممانعت کی اصل وجہ: اختلاطِ قرآن و حدیث کا خدشہ
ان احادیث کے سبب بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ کتابت حدیث شائد ہمیشہ کے لیے منع کر دی گئی تھی ۔۔یہ نتیجہ نکالنے میں احباب نے بہت جلدی کر دی وگرنہ معاملہ ایسا نہیں تھا ۔کوڈ سیدنا ابوہریرہ جو روایت کر رہے ہیں انہوں نے اس حکم کو کتابت حدیث کی ممانعت ۔کے طور پر نہیں لیا ۔۔وگرنہ یہ کس طرح ممکن تھا کہ وہ نبی کریم کا واضح حکم سن کے بھی اس کے خلاف عمل کرتے اور صرف وہی نہیں بیسیوں صحابہ کرام بھی ایسا کرتے ۔
اصل میں احکام کو جب ان کے پس منظر کے بغیر سمجھا جائے گا تو یہ غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہی رہیں گی ۔
دارمی میں مرقوم ہے :
وقد قيل انمها نهى ان تكتب الحديث مع القرآن فى صفحه واحدة فيختلط به فيشتبه
﴿دارمى جلد1 ص99﴾
کہ “حدیث کو قرآن مجید کے ساتھ ایک ہی صفحہ پر لکھنے سے منع فرمایا تاکہ اشتباہ پیدا نہ ہو جائے۔”
صحیفہ ہمام بن منبہ کے مقدمے ﴿ص 72-76﴾ میں ڈاکٹر حمیداللہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہےکہ :
“یمن سے نو مسلموں کی جماعت آئی ان میں سے کچھ نے احادیث کو اپنے ان اوراق پر لکھ لیا جن پر قرآن مجید کی سورتیں لکھی تھیں، تو آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ قرآن کے علاوہ (جو کچھ لکھا ہے) اس کو مٹا دو۔ یہ بات واضح ہی ہے کہ نومسلم لوگ اس اختلاط سے الجھ جاتے ہیں”
سو کتابت حدیث کی ممانعت مخصوص حالات میں اختلاط قران کے خدشے کے سبب تھی ۔۔اور جب یہ خدشہ نہ رہا تو خود نبی کریم کے سامنے صحابہ لکھتے رہے اور آپ نے منع نہ کیا ۔
اس بات کا سب سے بڑا ثبوت بعض جید ترین صحابہ کرام کا عمل ہے کہ جو انہوں نے اپنی اپنی حدیث کی کتابیں لکھ کے دیا ہے ۔ بلاشبہ صحابہ کرام ایسے تھے کہ ان تک کبھی نبی کریم کا کوئی حکم بلواسطہ بھی پہنچ جاتا تو تسلیم کرنے میں تساہل کا تصور بھی نہ کرتے ۔۔ اس کی سب سے بڑی مثال تحویل کعبہ اور شراب کی حرمت ہے ۔
جب بیت المقدس سے کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم آیا تو ایک صاحب نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی ۔۔۔اس کے بعد اپنی بستی کی طرف لوٹے ۔۔جب وہاں پہنچے تو وہاں جماعت ہو رہی تھی ۔۔ان صاحب نے پیچھے سے ہی آواز لگا دی کہ دوستو نماز اب کعبہ کی طرف منہ کر کے پڑھنے کا حکم آ گیا ہے ۔۔ صحابہ کا عمل یہ تھا کہ نماز کے دوران ہی منہ پھیر لیے ۔۔حالانکہ نماز مکمل کر کے بعد از تحقیق اگلی نماز سے بھی یہ کام شروع کیا جا سکتا تھا ۔۔لیکن منادی نے ساتھ یہ ندا بھی تو دی تھی نا کہ نبی کریم ﷺکا یہ حکم ہے ۔۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺکا منادی جب گلیوں گلیوں صدا دے رہا تھا کہ لوگو شراب حرام قرار دے دی گئی ہے تو کتنی ہی مجلسیں ایسی تھیں کہ شراب الٹا دی گئی ، گلیوں میں بہا دی گئی ، حلق میں انگلیاں تک ڈال کے بعض نے قے کر دی ۔۔
تو کیسے ممکن تھا کہ نبی کریم کتابت حدیث سے منع فرماتے اور صحابہ اس کے خلاف عمل کرتے ۔
نبی کریم ﷺ کی طرف سے کتابتِ حدیث کی اجازت
ابی داوود میں روایت ہے کہ عبد اللہ بن عمر نے نبی کریم سے پوچھا کہ کیا میں آپ کے اقوال لکھ سکتا ہوں تو آپ نے فرمایا :
“نعم ، انی لا اقوال الا حق “
ہاں لکھ لیا کرو کہ میں حق کے سوا کچھ نہیں کہتا ۔
﴿سنن ابي داود:كتاب العلم :حدیث: 3646﴾
سیدنا عمرؓ اور کتابتِ حدیث کا مسئلہ
ایک بات بہت شدومد سے کہی جاتی ہے کہ سیدنا عمر نے حدیث کی کتابیں جلانے کا حکم دیا تھا تو سوال یہ ہے اگر یہ حکم ایسا ہی عام تھا تو خود آپ کے بیٹے اور فرمان بردار بیٹے نے اس کو کیوں نہ مانا ۔۔؟جب کہ خود آپ نے بہت سو صورتوں میں احادیث رقم کیں ۔
ظاہر ہے اس حکم سے کچھ اور ہی مراد ہے ۔۔اور یہ حکم محض ایک غیرمعروف سی بات ہے۔
صحیح مسلم کی روایت کا درست مفہوم
جہاں تک صحیح مسلم کی اس حدیث کا تعلق ہے کہ جس میں کتابت حدیث سے منع کیا گیا تو اس کا مفھوم اور مقصود یہ تھا کہ آپ نے قران اور حدیث کو باہم اور یکجا لکھنے کے سبب منع فرمایا۔۔۔اور جب یہ خدشہ ختم ہو گٹھیا تو صحابہ کرام نے کھل کے اور مسلسل کتابت حدیث کی۔۔اپنی کتابیں لکھیں بھی دوسروں سے نقل بھی کیں۔
صحابۂ کرام کی لکھی ہوئی کتبِ حدیث
اگر صحابہ کرامرضی اللہ عنہ کی لکھی کتب نہ ہوتیں تو آج بہت سے احکام اسلام اور ان کی تشریح اور توضیح ممکن ہی نہ رہتی۔
صحابہ کرام کی جن کتابوں کا تاریخ نے ذکر کیا ہے ان میں چند یہ ہیں :
خود سیدنا عمر نے زکاه سے متعلق احادیث جمع کر رکھی تھیں جس کا ذکر موطا امام مالک میں ام مالک بایں الفاظ کرتے ہیں :
“انہ قرا کتاب عمر بن الخطاب فی الصدقہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
اسی طرح سیدنا عمر کی بہت سی تحاریر محفوظ ہیں جو احادیث پر مشتمل ہیں۔۔بلکہ اب تو چند ایک چھپ بھی چکی ہیں
اسی طرح ایک بار سیدنا علی نے اپنے بیٹے سیدنا محمد بن حنفیہ کو سیدنا عثمان کے پاس بھیجا کہ ان کے پاس یہ کتاب لے جاؤ اور ان سے کہو کہ اس میں صدقے (زکاه ) بارے نبی کریم کے احکام درج ہیں ، اس پر سیدنا عثمان نے فرمایا :
“اغنھا عنا “
کہ میں اس سے مستغنی ہوں مطلب یہ کہ میرے پاس موجود ہے۔
سیدنا عمرو بن العاص کی کتاب تو بہت ہی مشہور ہے۔ آپ ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے کتابت حدیث کا بہت زیادہ اہتمام کیا حتی کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
“اللہ کے رسول کے صحابہ میں سے کوئی بھی مجھ سے زیادہ احادیث بیان نہیں کرتا سواۓ عبد اللہ بن عمرو کے۔۔اس کا سبب یہ تھا کہ وہ احادیث لکھ لیا کرتے تھے اور میں لکھا نہیں کرتا تھا۔﴿صحیح بخاری﴾
سیدنا عبد اللہ کی کتاب ان کے خاندان میں موجود رہی حتی کہ ان کے پڑپوتے سے محدثین نے اس کتاب کو روایت کر کے اپنی کتب کا حصہ بنا لیا۔۔
خود سیدنا ابوہریرہ نبی کریم کی زندگی میں نہیں بھی لکھتے تھے تو بعد میں لکھنے لگے۔
ہمام ابن منبہ کا صحیفہ جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ کے انہی مخطوطات سے نقل ہوا تھا، اور چھپ بھی گیا ہے۔ جس کی اکثر احادیث بخاری مسلم مسند امام احمد میں لفظ بلفظ موجود ہیں۔
احادیث کا ایک مجموعہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے لکھا تھا۔
اسی طرح قتادہ روایت کرتے ہیں۔
کان یملی الحدیث حتی اذاکثر علیہ الناس جاء محمال من کتب القاھا ثم قال ھذہ احادیث سمعتھا و کتبتھا عن رسول اللّٰہ و عرصتھا علیہ۔
﴿تفسیر العلم ص 96،95﴾
سیدنا انس بھی حدیث لکھوایا کرتے تھے جب لوگوں کی کثرت ہوگئی تو وہ کتابوں کا صحیفہ لے کر آئے اور لوگوں کے سامنے رکھ کر فرمایا:
” یہ وہ احادیث ہیں جنھیں میں نے رسول اللہ سے سن کر لکھی ہیں اور آپ کو پڑھ کر سنا بھی دی ہے”
آپ صلی للہ علیہ وسلم کو پڑھ کے سنانے سے ثابت ہوتا ہے سیدنا انس کے اس عمل پر نبی کریم نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا اور یوں کتابت حدیث کو سند قبولیت بخشی۔
طوالت کے سبب ہم نے بہت سے صحابہ کی کتب کا تذکرہ نہیں کیا ، ورنہ مزید بہت سے صحابہ ایسے تھے جنہوں نے اپنی اپنی کتب حدیث لکھ رکھی تھیں ، اور آج جو احادیث آپ کے پاس موجود ہیں ، بیشتر انہی کتب سے ماخوذ ہیں۔
خلاصہ
الحمد للہ! اس پوری بحث سے واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی طرف سے کتابتِ حدیث کی ممانعت دائمی یا مطلق نہیں تھی، بلکہ ایک مخصوص مصلحت کے تحت تھی تاکہ ابتدائی دور میں قرآنِ مجید کے ساتھ حدیث کے اختلاط کا اندیشہ نہ رہے۔ جب یہ سبب ختم ہوگیا تو خود نبی کریم ﷺ نے متعدد صحابۂ کرام کو حدیث لکھنے کی اجازت دی، اور صحابہ نے بھی آپ ﷺ کی نگرانی اور اجازت سے احادیث کو محفوظ کرنا شروع کر دیا۔
اگر کتابتِ حدیث ہمیشہ کے لیے ممنوع ہوتی تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، جو رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم پر بلا چون و چرا عمل کرنے والے تھے، کبھی حدیث نہ لکھتے۔ لیکن تاریخی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص، سیدنا علی، سیدنا عمر، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا انس بن مالک اور دیگر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے صحائف اور تحریری مجموعے اس بات کی روشن دلیل ہیں کہ عہدِ نبوی اور اس کے بعد کتابتِ حدیث ایک معروف اور جائز عمل تھا۔
لہٰذا ممانعت والی روایات کو ان کے صحیح پس منظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ جب تمام روایات کو جمع کر کے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا میں ممانعت کا تعلق صرف ایک وقتی مصلحت سے تھا، جبکہ بعد میں کتابتِ حدیث کی اجازت دی گئی اور اسی اجازت کی بنیاد پر حدیث کا عظیم ذخیرہ امت تک محفوظ صورت میں منتقل ہوا۔
واللہ اعلم بالصواب
تحقیق و تدوین

ابو بکر قدوسی
ابوبکر قدوسی پاکستان کے معروف دینی مصنف، محقق، ناشر اور کالم نگار ہیں، جو طویل عرصے سے اسلامی علوم، تاریخ، سیرت، کتابی ثقافت اور اہلِ علم کے تذکروں پر قلم اٹھا رہے ہیں۔ وہ لاہور کے معروف اشاعتی ادارے مکتبہ قدوسیہ سے وابستہ ہیں اور متعدد علمی و تحقیقی کتب کی اشاعت و تدوین میں نمایاں کردار ادا کر چکے ہیں۔ ان کی تحریروں میں علمی وقار، تاریخی شعور اور ادبی اسلوب کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے، جبکہ ان کی معروف تصانیف میں "تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں" سمیت متعدد کتابیں شامل ہیں۔ دینی اشاعت، علمی تحقیق اور اردو ادب کے فروغ میں ان کی خدمات علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔


