بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(مسند عبدالله بن عمر) حدیث نمبر:56

متفرق ابواب
حدیث نمبر:56

حدیث نمبر:56

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ، يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلا وَعِنْدَهُ وَصِيَّةٌ".
حدثنا محمد بن سابق، حدثنا عاصم، عن زيد بن محمد، عن نافع، قال: قال عبد الله بن عمر: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ما حق امرئ مسلم له شيء يوصي فيه، يبيت ليلتين إلا وعنده وصية".

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس کے پاس کوئی چیز ہو جس سے متعلق وہ وصیت کرنا چاہتا ہو کہ وہ دو راتیں بھی اس حال میں گزار دے کہ اس کی وصیت اس کے پاس (لکھی ہوئی نہ) ہو۔“

صحیح
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں