بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(مسند عبدالرحمن بن عوف) عروۃ بن زبیر کی عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث

متفرق ابواب
باب: عروۃ بن زبیر کی عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث
احادیث:3

حدیث نمبر: 30

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنِ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: كَيْفَ صَنَعْتَ فِي اسْتِلَامِكَ الْحَجَرَ؟ قَالَ: اسْتَلَمْتُ وَتَرَكَتُ قَالَ: أَصَبْتَ.
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا سفيان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عبد الرحمن، قال: قال رسول الله: كيف صنعت في استلامك الحجر؟ قال: استلمت وتركت قال: اصبت.
جناب عروہ بن زبیر سے روایت ہے، وہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”تم نے حجر اسود کے چھونے کے بارے میں کیسے کیا؟“ میں نے عرض کیا: میں نے کبھی چھو لیا اور کبھی چھوڑ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے ٹھیک کیا۔“

حدیث نمبر: 31

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ: «كَيْفَ صَنَعْتَ فِي اسْتِلَامِكَ الرُّكْنَ الْأَسْوَدَ؟» قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: اسْتَلَمْتُ وَتَرَكَتُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: «أَصَبْتَ» .
حدثنا القعنبي، قال: قرات على مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، انه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعبد الرحمن بن عوف: «كيف صنعت في استلامك الركن الاسود؟» قال عبد الرحمن: استلمت وتركت، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: «اصبت» .
عروہ بن زبیر سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے پوچھا: "تم نے حجر اسود کے چھونے کے بارے میں کیسے کیا؟" انہوں نے عرض کیا: میں نے اسے کبھی چھوا اور کبھی چھوڑ دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تو نے ٹھیک کیا۔"

حدیث نمبر: 32

حَدَّثَنَا خَلْفُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ: كَيْفَ صَنَعْتَ فِي الرُّكْنِ؟ قَالَ: اسْتَلَمْتُ وَتَرَكَتُ، قَالَ: أَصَبْتَ.
حدثنا خلف بن هشام، قال: حدثنا حماد بن زيد، عن هشام بن عروة، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لعبد الرحمن بن عوف: كيف صنعت في الركن؟ قال: استلمت وتركت، قال: اصبت.
عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے پوچھا:"تم نے حجر اسود کے چھونے کے بارے میں کیسے کیا؟"انہوں نے کہا: میں نے کبھی اسے چھو لیا اور کبھی چھوڑ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تو نے ٹھیک کیا۔"
ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم