بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(مسند عبدالله بن عمر) حدیث نمبر:10

متفرق ابواب
حدیث نمبر:10

حدیث نمبر:10

حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ هُرَيْمِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ فِي الصَّلاةِ كَمَا يُعَلِّمُ الْمُكَتِّبُ الْوِلْدَانَ".
حدثنا الاسود بن عامر، عن هريم بن سفيان، عن عبد الرحمن بن إسحاق، عن محارب بن دثار، عن ابن عمر، قال:" لقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا التشهد في الصلاة كما يعلم المكتب الولدان".

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز میں تشہد کی اس طرح تعلیم دیتے جیسے لکھائی سکھانے والا بچوں کو سکھاتا ہے۔

اس کی سند ضعیف ہے۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم