کتاب: وضو کے بیان میں
باب: وضو پورا کرنے کے بارے میں۔
احادیث:1
ترجمۃ الباب
وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ الإِنْقَاءُ.
وقال ابن عمر إسباغ الوضوء الإنقاء.
...
”عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ وضو کا پورا کرنا اعضاء وضو کا صاف کرنا ہے۔“
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم
مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں
قسم الحديث: قولی
اتصال السند: متصل
قسم الحديث (القائل): مرفوع
حدیث نمبر: 139
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ:"دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَمْ يُسْبِغِ الْوُضُوءَ، فَقُلْتُ: الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ أَمَامَكَ، فَرَكِبَ، فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ فَصَلَّى وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا".
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن موسى بن عقبة، عن كريب مولى ابن عباس، عن اسامة بن زيد، انه سمعه، يقول:"دفع رسول الله صلى الله عليه وسلم من عرفة حتى إذا كان بالشعب نزل فبال، ثم توضا ولم يسبغ الوضوء، فقلت: الصلاة يا رسول الله، فقال: الصلاة امامك، فركب، فلما جاء المزدلفة نزل فتوضا فاسبغ الوضوء، ثم اقيمت الصلاة فصلى المغرب، ثم اناخ كل إنسان بعيره في منزله، ثم اقيمت العشاء فصلى ولم يصل بينهما".
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے، جب گھاٹی میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے، پیشاب کیا، پھر وضو فرمایا لیکن وضو پورا نہ کیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! نماز کا وقت قریب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز آگے چل کر پڑھیں گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے، جب مزدلفہ آئے تو اترے اور پورا وضو کیا، پھر نماز کی تکبیر کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز ادا کی۔ اس کے بعد ہر شخص نے اپنا اونٹ اپنے مقام پر بٹھایا، پھر عشاء کی تکبیر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور دونوں کے درمیان نفل وغیرہ نہیں پڑھے۔
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے موسیٰ بن عقبہ کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے کریب مولیٰ ابن عباس سے، انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات سے واپس ہوئے۔ جب گھاٹی میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتر گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پہلے) پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور خوب اچھی طرح نہیں کیا۔ تب میں نے کہا، یا رسول اللہ! نماز کا وقت (آ گیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز، تمہارے آگے ہے (یعنی مزدلفہ چل کر پڑھیں گے) جب مزدلفہ میں پہنچے تو آپ نے خوب اچھی طرح وضو کیا، پھر جماعت کھڑی کی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھی، پھر ہر شخص نے اپنے اونٹ کو اپنی جگہ بٹھلایا، پھر عشاء کی جماعت کھڑی کی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم
مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں