بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

کیا سیدنا ابوبکر نے بیتِ فاطمہ پر حملے کا اعتراف کیا تھا؟ روایت کا جائزہ

کیا سیدنا ابوبکر نے بیتِ فاطمہ پر حملے کا اعتراف کیا تھا؟ روایت کا جائزہ

شیعہ حضرات کی جانب سے ایک روایت پیش کی جاتی ہے جس کا متن درج ذیل ہے:

“میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی اس بیماری میں عیادت کے لیے گیا جس میں ان کا انتقال ہوا، تو میں نے انہیں سلام کیا اور ان سے پوچھا کہ آپ نے صبح کیسی کی؟…….. پس میری یہ خواہش تھی کہ کاش میں نے فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کے گھر کو نہ کھولا ہوتا اور اسے اسی حال پر چھوڑ دیا ہوتا، خواہ وہ میرے خلاف جنگ پر ہی بند کیوں نہ ہوا ہوتا۔”

﴿المعجم الکبیر طبرانی: 62/1

 

فہرستِ مباحث

ابتدائی جائزہ اور عمومی خرابی:

یہ الفاظ صرف علوان بن داؤد البجلی سے آتے ہیں اور وہ اس روایت کو بیان کرنے میں منفرد ہے اور اس راوی پر جروحات کثرت سے موجود ہے اور اس وجہ سے اس کا متن میں بھی اضطراب ہے اور اس کی سند بھی علوان کی وجہ سے ضعیف ہے اس وجہ سے یہ روایت موضوع ہے اور عدالتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم پر ایک جھوٹ ہے۔

علت نمبر 1: روایت کا ضعف

علوان بن داؤد البجلی اس روایت میں ضعیف راوی ہے۔

قال العقیلی: و لا یتابع علیہ علی حدیث و لا یعرف واحد۔

قال البخاری: منکر الحدیث۔

﴿الضعفاء الکبیر العقیلی: 418/3

قال العقیلی: ولا يُعرَفُ عُلوَان الاّ بهذا مع اضطرابِ الإِسناد، ولا يُتَابَعُ عَلَيه۔

﴿الضعفاء الکبیر العقیلی: 422/3

قال ابو سعید بن یونس المصری: منکر الحدیث۔

﴿میزان الاعتدال: 108/3

امام بخاری کی ‘منکر الحدیث’ جرح مفسر ہے:

عن البخاري: إنه منكر الحديث، وقد قال في كتابه الأوسط: كل من قلت فيه: منكر الحديث، فلا تحل الرواية عنه.

“امام بخاری سے منقول ہے کہ وہ (فلاں راوی) ‘منکر الحدیث’ ہے، اور یقیناً امام بخاری نے اپنی کتاب ‘الکتاب الاوسط’ (التاریخ الاوسط) میں فرمایا ہے: ‘جس راوی کے بارے میں بھی میں کہہ دوں کہ وہ منکر الحدیث ہے، تو اس سے روایت کرنا حلال (جائز) ہی نہیں ہے’۔”

﴿بیان الوہم والإیہام فی کتاب الأحکام: 93/3

المُنكَرُ إِذَا أَطلَقَهُ البُخَارِيُّ عَلَى الرَّاوِي فَهُوَ مِمَّن لَا تَحِلُّ الرِّوَايَةُ عَنْهُ

امام بخاری جب کسی راوی پر ‘منکر’ (منکر الحدیث) کا اطلاق کرتے ہیں (یعنی اسے منکر الحدیث کہتے ہیں)، تو وہ ان راویوں میں سے ہوتا ہے جن سے روایت کرنا حلال (جائز) ہی نہیں ہے۔

﴿الرفع والتکمیل: 1/210}

اعتراض اور اس کا جواب:

کہا جاتا ہے کہ امام بخاری سے جس نے روایت نقل کی، اس کا راوی آدم بن موسیٰ مجہول ہے مگر ایسا نہیں ہے۔ اس کی توثیق ملاحظہ کریں۔

امام ابن حبان نے ان کی روایت اپنی صحیح میں درج کی اور امیر ابن بلبان الفارسی نے اس روایت کو بھی تخریج کے بعد نقل کیا جو اس چیز کی دلیل ہے کہ امام ابن حبان اور امام ابن بلبان الفارسی دونوں کے نزدیک ثقہ راوی ہے۔

{الإحسان فی تقریب صحیح ابن حبان: 258/13

مقدمہ صحیح ابن حبان میں امام ابن حبان رحمہ اللہ کہتے ہیں:

“اور رہی بات ہماری اس شرط کی جو ہم نے سنن کی اس کتاب میں نقل کی ہے، تو ہم اس میں صرف اسی حدیث سے احتجاج (دلیل) لیتے ہیں جس کے راوی میں پانچ چیزیں جمع ہوں:

پہلی چیز: دین میں عدل (انصاف/پاکدامنی) ہونا، جو کہ اچھے پردے (ظاہری عیبوں سے پاک ہونے) کے ساتھ ہو۔

دوسری چیز: حدیث بیان کرنے میں سچائی ہونا، جو کہ اس کے ہاں مشہور ہو۔

تیسری چیز: عقل ہونا، یعنی وہ جو حدیث بیان کر رہا ہے اسے سمجھتا ہو۔

چوتھی چیز: علم ہونا، یعنی وہ ان باتوں سے واقف ہو جو حدیث کے معانی کو بدل دیتی ہیں۔”

﴿الاحسان فی تقریب صحیح ابن حبان: 151/1

اس پر عمل کرتے ہوئے امام ابن بلبان رحمہ اللہ نے ان کی روایت سے حجت پکڑی۔

“چنانچہ، «صحیح ابن حبان» میں ابن حبان کے شیوخ (اساتذہ) ان کے نزدیک ثقہ (قابل اعتماد) ہیں، اور اس طبقے (اپنے اساتذہ) کے لیے ان کی توثیق معتبر اور مقبول ہے۔”

﴿موسوعۃ المعلمی الیمانی و اثرہ فی علوم الحدیث: 280/2

یعنی جو ابن حبان کے شیوخ ہیں جن سے انہوں نے روایت اپنی صحیح میں لی ہے وہ ثقہ ہے۔

آدم بن موسیٰ کا سوانحی خاکہ:

مجھے ابھی ان کا سوانحی خاکہ (ترجمہ) نہیں ملا۔

﴿الإرواء:5/ 242۔

الدرینی نے کہا: وہ امام بخاری کے شاگرد اور ابن حبان کے استاد ہیں، العقیلی نے کتاب «الضعفاء» میں ان سے کثرت سے روایت کی ہے، انہوں نے امام بخاری کی کتب «الضعفاء الکبیر» اور «الضعفاء الصغیر» کی روایت کی ہے۔

یحییٰ بن عبداللہ الشہری نے اپنی کتاب ﴿زوائد رجال صحیح ابن حبان علی الکتب الستۃ:1/ 203 (پہلا سوانحی خاکہ) میں ان کا تذکرہ کیا ہے، ان کی کنیت: ابو علی، اور نسبت: الخواری ہے۔

امام ذہبی نے ﴿تاریخ الإسلام» 87/7 نمبر 221) (وفیات: 305ھ میں ان کا تذکرہ کیا ہے، اور ذکر کیا ہے کہ ان کا انتقال رجب کے مہینے میں ہوا تھا۔

﴿بلوغ الامانی: 19

اور ترمذی کا اس (حدیث) کو صحیح قرار دینا، اس کی توثیق ہے اور سعد بن اسحاق کی توثیق ہے۔ اور کسی ثقہ راوی کو یہ نقصان نہیں پہنچاتا کہ اس سے صرف ایک ہی راوی نے روایت کی ہو۔ واللہ اعلم۔”

﴿بیان الوہم والإیہام فی کتاب الأحکام: 395/5

اس طرح ابن حبان نے اپنے شیخ کی توثیق کی اور امام ابن بلبان الفارسی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کی تخریج کی اور اس سے حجت پکڑی اور اس سے حجت لینا ضروری ہے۔

علت نمبر 2: اس کے متن میں بھی اضطراب ہے اور اس کے الفاظ بھی مختلف ہیں

ان (ابوبکر رضی اللہ عنہ) سے، ان کی اس بیماری میں جس میں ان کا انتقال ہوا، میں ان کی عیادت کر رہا تھا تو میں نے انہیں فرماتے ہوئے سنا: ‘میری یہ خواہش تھی کہ کاش میں نے نبی کریم ﷺ سے پھوپھی اور خالہ کی میراث کے بارے میں سوال کر لیا ہوتا، کیونکہ میرے دل میں اس کے متعلق ایک خلش (یا ضرورت) باقی ہے۔”

﴿المستدرک للحاکم: 381،832/4

وجہ سے امام عقیلی کو اس کو مضطرب الحدیث کہنے کو تقویت ہے اور متن بھی شاذ اور منکر ثابت ہوتا ہے۔ شیعہ سے سوال ہے کہ اس راوی کی توثیق پیش کریں۔

خلاصہ

اس پوری تحقیق میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے منسوب وہ روایت، جس میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے بارے میں ندامت کا اظہار مذکور ہے، سند اور متن دونوں اعتبار سے قابلِ قبول نہیں۔ اس روایت کا مدار علوان بن داؤد البجلی پر ہے جو محدثین کے نزدیک ضعیف، منکر الحدیث اور غیر متابع راوی ہے۔ امام بخاری، امام عقیلی اور دیگر ائمہ کی جرح اس کے ضعف کو واضح کرتی ہے، جس کی وجہ سے یہ روایت حجت نہیں بن سکتی۔

مزید برآں، اس روایت کے متن میں بھی اضطراب پایا جاتا ہے، کیونکہ اسی راوی سے مختلف الفاظ کے ساتھ ایک دوسری روایت بھی منقول ہے جس میں مذکورہ الفاظ سرے سے موجود ہی نہیں۔ اس اختلاف کی وجہ سے روایت کے منکر اور شاذ ہونے کی تائید ہوتی ہے۔ لہٰذا عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کے خلاف اس روایت سے استدلال کرنا درست نہیں، کیونکہ یہ روایت نہ سند کے اعتبار سے ثابت ہے اور نہ ہی متن کے اعتبار سے محفوظ۔

چنانچہ حاصلِ تحقیق یہ ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے متعلق سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب یہ روایت ضعیف اور ناقابلِ اعتماد ہے، اور اس کی بنیاد پر صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف کوئی تاریخی یا اعتقادی دعویٰ قائم نہیں کیا جا سکتا۔

واللہ اعلم بالصواب

تحقیق و تدوین

زائر عباس

زائر عباس

زائر عباس متبع ٹیم (Muttabi Team) کے رکن اور شیعہ مطالعات کے محقق ہیں۔ سابقہ شیعہ پس منظر رکھنے کی وجہ سے انہیں اثنا عشریہ مصادر اور عقائد کا خصوصی مطالعہ حاصل ہے۔ ان کی تحریریں بنیادی مراجع اور تحقیقی اصولوں کی روشنی میں مرتب کی جاتی ہیں۔