صحیح البخاری ہوم-صحیح البخاری Search Search کتاب 1: وحی کے بیان میں (احادیث1 سے7) باب نمبر 1: رسول اللہ ﷺ پر وحی کی ابتداء کیسے ہوئی۔ باب نمبر 2: کیفیت وحی باب نمبر 3 : وحی کی ابتداء باب نمبر 4: وحی کی علامات، وحی کا محفوظ کرنا۔ باب نمبر 5: رمضان المبارک میں جبرائیل علیہ السلام کا وحی لانا۔ باب نمبر6: ابوسفیان اور ہرقل کا مقالمہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہرقل کو خط مبارک کتاب 2: ایمان کے بیان میں (احادیث8سے58) باب نمبر7: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۔ باب نمبر8: اس بات کا بیان کہ تمہاری دعائیں تمہارے ایمان کی علامت ہیں۔ باب نمبر9: ایمان کے کاموں کا بیان۔ باب نمبر10: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دیگر مسلمان بچے رہیں (کوئی تکلیف نہ پائیں)۔ باب نمبر11: کون سا اسلام افضل ہے؟ باب نمبر12: کھانا کھلانا (بھوکے ناداروں کو) بھی اسلام میں داخل ہے۔ باب نمبر13:ایمان میں داخل ہے کہ مسلمان جو اپنے لیے پسند کرے وہی چیز اپنے بھائی کے لیے پسند کرئے۔ باب نمبر14: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنا بھی ایمان میں داخل ہے۔ باب نمبر15: ایمان کی مٹھاس کے بیان میں۔ باب نمبر16: انصار کی محبت ایمان کی نشانی ہے۔ باب نمبر17: ۔۔۔ باب نمبر18: فتنوں سے دور بھاگنا (بھی) دین (ہی) میں شامل ہے۔ باب نمبر19: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تفصیل کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جانتا ہوں۔ باب نمبر20: جو آدمی کفر کی طرف واپسی کو آگ میں گرنے کے برابر سمجھے، تو اس کی یہ روش بھی ایمان میں داخل ہے۔ باب نمبر21: ایمان والوں کا عمل میں ایک دوسرے سے بڑھ جانا (عین ممکن ہے)۔ باب نمبر22: شرم و حیاء بھی ایمان سے ہے۔ باب نمبر23: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں کہ اگر وہ (کافر) توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو (یعنی ان سے جنگ نہ کرو)۔ باب نمبر24: اس شخص کے قول کی تصدیق میں جس نے کہا ہے کہ ایمان عمل (کا نام) ہے۔ باب نمبر25: جب حقیقی اسلام پر کوئی نہ ہو بلکہ محض ظاہر طور پر مسلمان بن گیا ہو یا قتل کے خوف سے تو (لغوی حیثیت سے اس پر) مسلمان کا اطلاق درست ہے۔ باب نمبر26: سلام پھیلانا بھی اسلام میں داخل ہے۔ باب نمبر27: خاوند کی ناشکری کے بیان میں اور ایک کفر کا (اپنے درجہ میں) دوسرے کفر سے کم ہونے کے بیان میں۔ باب نمبر28(حصہ اول): گناہ جاہلیت کے کام ہیں۔ باب نمبر28(حصہ دوم): "اور اگر ایمان والوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان دونوں کے درمیان صلح کرا دو" ان کا نام مومن رکھا ہے۔ باب نمبر28: بعض ظلم بعض سے ادنیٰ ہیں۔ باب نمبر30: منافق کی نشانیوں کے بیان میں۔ باب نمبر31: شب قدر کی بیداری (اور عبادت گزاری) بھی ایمان (ہی میں داخل) ہے۔ باب نمبر32: جہاد بھی جزو ایمان ہے۔ باب نمبر33: رمضان شریف کی راتوں میں نفلی قیام کرنا بھی ایمان ہی میں سے ہے۔ باب نمبر34: خالص نیت کے ساتھ رمضان کے روزے رکھنا ایمان کا جزو ہیں۔ باب نمبر35: اس بیان میں کہ دین آسان ہے۔ باب نمبر36: نماز ایمان کا جزو ہے۔ باب نمبر37: آدمی کے اسلام کی خوبی (کے درجات کیا ہیں)۔ باب نمبر38: اللہ کو دین (کا) وہ (عمل) سب سے زیادہ پسند ہے جس کو پابندی سے کیا جائے۔ باب نمبر39: ایمان کی کمی اور زیادتی کے بیان میں۔ باب نمبر40: زکوٰۃ دینا اسلام میں داخل ہے۔ باب نمبر41: جنازے کے ساتھ جانا ایمان میں داخل ہے۔ باب نمبر42: مومن کو ڈرنا چاہیے کہ کہیں اس کے اعمال مٹ نہ جائیں اور اس کو خبر تک نہ ہو۔ باب نمبر43: جبرائیل علیہ السلام کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان، اسلام، احسان اور قیامت کے علم کے بارے میں پوچھنا۔ باب نمبر44:۔۔۔ باب نمبر45: اس شخص کی فضیلت کے بیان میں جو اپنا دین قائم رکھنے کے لیے گناہ سے بچ گیا۔ باب نمبر46:مال غنیمت سے پانچواں حصہ ادا کرنا بھی ایمان سے ہے۔ باب نمبر47: اس بات کے بیان میں کہ عمل بغیر نیت اور خلوص کے صحیح نہیں ہوتے اور ہر آدمی کو وہی ملے گا جو نیت کرے۔ باب نمبر48:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ دین سچے دل سے اللہ کی فرمانبرداری اور اس کے رسول اور مسلمان حاکموں اور تمام مسلمانوں کی خیر خواہی کا نام ہے۔ کتاب 3: علم کے بیان میں (احادیث59سے134) باب نمبر 49: علم کی فضیلت کے بیان میں۔ باب نمبر 50: اس بیان میں کہ جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے اور وہ اپنی کسی دوسری بات میں مشغول ہو پس (ادب کا تقاضا ہے کہ) وہ پہلے اپنی بات پوری کر لے پھر پوچھنے والے کو جواب دے۔ باب نمبر 51: اس کے بارے میں جس نے علمی مسائل کے لیے اپنی آواز کو بلند کیا۔ باب نمبر 52: محدث کا لفظ «حدثنا أو، أخبرنا وأنبأنا» استعمال کرنا صحیح ہے۔ باب نمبر 53: استاد اپنے شاگردوں کا علم آزمانے کے لیے ان سے کوئی سوال کرے (یعنی امتحان لینے کا بیان)۔ باب نمبر 54: شاگرد کا استاد کے سامنے پڑھنا اور اس کو سنانا۔ باب نمبر 55: مناولہ کا بیان اور اہل علم کا علمی باتیں لکھ کر (دوسرے) شہروں کو بھیجنا۔ باب نمبر 56: وہ شخص جو مجلس کے آخر میں بیٹھ جائے اور وہ شخص جو درمیان میں جہاں جگہ دیکھے بیٹھ جائے (بشرطیکہ دوسروں کو تکلیف نہ ہو)۔ باب نمبر 57: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تفصیل میں کہ بسا اوقات وہ شخص جسے (حدیث) پہنچائی جائے سننے والے سے زیادہ (حدیث کو) یاد رکھ لیتا ہے۔ باب نمبر 58: اس بیان میں کہ علم (کا درجہ) قول و عمل سے پہلے ہے۔ باب نمبر 59: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کی رعایت کرتے ہوئے نصیحت فرمانے اور تعلیم دینے کے بیان میں تاکہ انہیں ناگوار نہ ہو۔ باب نمبر 60: اس بارے میں کہ کوئی شخص اہل علم کے لیے کچھ دن مقرر کر دے (تو یہ جائز ہے) یعنی استاد اپنے شاگردوں کے لیے اوقات مقرر کر سکتا ہے۔ باب نمبر 61: اس بارے میں کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے۔ باب نمبر 62: علم میں سمجھداری سے کام لینے کے بیان میں۔ باب نمبر 63: علم و حکمت میں رشک کرنے کے بیان میں۔ باب نمبر 64: موسیٰ علیہ السلام کے خضر علیہ السلام کے پاس دریا میں جانے کے ذکر میں۔ باب نمبر 65: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ”اللہ اسے قرآن کا علم عطا فرمائیو!“۔ باب نمبر 66: اس بارے میں کہ بچے کا (حدیث) سننا کس عمر میں صحیح ہے؟ باب نمبر 67: علم کی تلاش میں نکلنے کے بارے میں۔ باب نمبر 68: پڑھنے اور پڑھانے والے کی فضیلت کے بیان میں۔ باب نمبر 69: علم کے زوال اور جہل کی اشاعت کے بیان میں۔ باب نمبر 70: علم کی فضیلت کے بیان میں۔ باب نمبر 71: جانور وغیرہ پر سوار ہو کر فتویٰ دینا جائز ہے۔ باب نمبر 72: اس شخص کے بارے میں جو ہاتھ یا سر کے اشارے سے فتویٰ کا جواب دے۔ باب نمبر 73: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبیلہ عبدالقیس کے وفد کو اس پر آمادہ کرنا کہ وہ ایمان لائیں اور علم کی باتیں یاد رکھیں اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی خبر کر دیں۔ باب نمبر 74: اس بارے میں کہ (طلباء کا حصول) علم کے لیے (استاد کی خدمت میں) اپنی اپنی باری مقرر کرنا درست ہے۔ باب نمبر 75: استاد شاگردوں کی جب کوئی ناگوار بات دیکھے تو وعظ کرتے اور تعلیم دیتے وقت ان پر خفا ہو سکتا ہے۔ باب نمبر 76: اس شخص کے بارے میں جو امام یا محدث کے سامنے دو زانو (ہو کر ادب کے ساتھ) بیٹھے۔ باب نمبر 77: اس بارے میں کہ کوئی شخص سمجھانے کے لیے (ایک) بات کو تین مرتبہ دہرائے تو یہ ٹھیک ہے۔ باب نمبر 78: اس بارے میں کہ مرد کا اپنی باندی اور گھر والوں کو تعلیم دینا (ضروری ہے)۔ باب نمبر 79: اس بارے میں کہ امام کا عورتوں کو بھی نصیحت کرنا اور تعلیم دینا (ضروری ہے)۔ باب نمبر 80: علم حدیث حاصل کرنے کی حرص کے بارے میں۔ باب نمبر 81: اس بیان میں کہ علم کس طرح اٹھا لیا جائے گا؟ باب نمبر 82: اس بیان میں کہ کیا عورتوں کی تعلیم کے لیے کوئی خاص دن مقرر کیا جا سکتا ہے؟ باب نمبر 83: اس بارے میں کہ ایک شخص کوئی بات سنے اور نہ سمجھے تو دوبارہ دریافت کر لے تاکہ وہ اسے (اچھی طرح) سمجھ لے، یہ جائز ہے۔ باب نمبر 84: اس بارے میں کہ جو لوگ موجود ہیں وہ غائب شخص کو علم پہنچائیں۔ باب نمبر 85: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے والے کا گناہ کس درجے کا ہے۔ باب نمبر 86: (دینی) علم کو قلم بند کرنے کے جواز میں۔ باب نمبر 87: اس بیان میں کہ رات کو تعلیم دینا اور وعظ کرنا جائز ہے۔ باب نمبر 88: اس بارے میں کہ سونے سے پہلے رات کے وقت علمی باتیں کرنا جائز ہے۔ باب نمبر 89: علم کو محفوظ رکھنے کے بیان میں۔ باب نمبر 90: اس بارے میں کہ عالموں کی بات خاموشی سے سننا ضروری ہے۔ باب نمبر 91: اس بیان میں کہ جب کسی عالم سے یہ پوچھا جائے کہ لوگوں میں کون سب سے زیادہ علم رکھتا ہے؟ تو بہتر یہ ہے کہ اللہ کے حوالے کر دے یعنی یہ کہہ دے کہ اللہ سب سے زیادہ علم رکھتا ہے یا یہ کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کون سب سے بڑا عالم ہے۔ باب نمبر 92: کھڑے ہو کر کسی عالم سے سوال کرنا جو بیٹھا ہوا ہو (جائز ہے)۔ باب نمبر 93: رمی جمار (یعنی حج میں پتھر پھینکنے) کے وقت بھی مسئلہ پوچھنا جائز ہے۔ باب نمبر 94: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تشریح میں کہ تمہیں تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ باب نمبر 95: اس بارے میں کہ کوئی شخص بعض باتوں کو اس خوف سے چھوڑ دے کہ کہیں لوگ اپنی کم فہمی کی وجہ سے اس سے زیادہ سخت (یعنی ناجائز) باتوں میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ باب نمبر 96: اس بارے میں کہ علم کی باتیں کچھ لوگوں کو بتانا اور کچھ لوگوں کو نہ بتانا اس خیال سے کہ ان کی سمجھ میں نہ آئیں گی (یہ عین مناسب ہے)۔ باب نمبر 97: اس بیان میں کہ حصول علم میں شرمانا مناسب نہیں ہے!۔ باب نمبر 98: اس بیان میں کہ مسائل شرعیہ معلوم کرنے میں جو شخص (کسی معقول وجہ سے) شرمائے وہ کسی دوسرے آدمی کے ذریعے سے مسئلہ معلوم کر لے۔ باب نمبر 99: مسجد میں علمی مذاکرہ کرنا اور فتوی دینا جائز ہے۔ باب نمبر 100: سائل کو اس کے سوال سے زیادہ جواب دینا، (تاکہ اسے تفصیلی معلومات ہو جائیں)۔ کتاب 4: کتاب: وضو کے بیان میں ( احادیث 135سے247) کتاب 5: غسل کے احکام و مسائل (احادیث248سے293) کتاب 6: حیض کے احکام و مسائل (احادیث294سے333) باب نمبر 258 اول: اس بیان میں کہ حیض کی ابتداء کس طرح ہوئی۔ باب نمبر 258 دوم: عورتوں کے لیے اس حکم کا بیان جب وہ نفاس کی حالت میں ہوں۔ باب نمبر 259: اس بارے میں کہ حائضہ عورت کا اپنے شوہر کے سر کو دھونا اور اس میں کنگھا کرنا جائز ہے۔ باب نمبر 260: اس بارے میں کہ مرد کا اپنی بیوی کی گود میں حائضہ ہونے کے باوجود قرآن پڑھنا جائز ہے۔ باب نمبر 261: اس شخص سے متعلق جس نے نفاس کا نام بھی حیض رکھا۔ باب نمبر 262: اس بارے میں کہ حائضہ کے ساتھ مباشرت کرنا (یعنی جماع کے علاوہ اس کے ساتھ لیٹنا بیٹھنا جائز ہے)۔ باب نمبر 263: اس بارے میں کہ حائضہ عورت روزے چھوڑ دے (بعد میں قضاء کرے)۔ باب نمبر 264: اس بارے میں کہ حائضہ بیت اللہ کے طواف کے علاوہ حج کے باقی ارکان پورا کرے گی۔ باب نمبر 265: استحاضہ کے بیان میں۔ باب نمبر 266: حیض کا خون دھونے کے بیان میں۔ باب نمبر 267: عورت کے لیے استحاضہ کی حالت میں اعتکاف۔ باب نمبر 268: کیا عورت اسی کپڑے میں نماز پڑھ سکتی ہے جس میں اسے حیض آیا ہو؟ باب نمبر 269: عورت حیض کے غسل میں خوشبو استعمال کرے۔ باب نمبر 270: اس بارے میں کہ حیض سے پاک ہونے کے بعد عورت کو اپنے بدن کو نہاتے وقت ملنا چاہیے۔ باب نمبر 271: حیض کا غسل کیونکر ہو؟ باب نمبر 272: عورت کا حیض کے غسل کے بعد کنگھا کرنا جائز ہے۔ باب نمبر 273: حیض کے غسل کے وقت عورت کا اپنے بالوں کو کھولنے کے بیان میں۔ باب نمبر 274: اللہ عزوجل کے قول «مخلقة وغير مخلقة» (کامل الخلقت اور ناقص الخلقت) کے بیان میں۔ باب نمبر 275: اس بارے میں کہ حائضہ عورت حج اور عمرہ کا احرام کس طرح باندھے؟ باب نمبر 276: اس بارے میں کہ حیض کا آنا اور اس کا ختم ہونا کیونکر ہے؟ باب نمبر 277: اس بارے میں کہ حائضہ عورت نماز قضاء نہ کرے۔ باب نمبر 278: حائضہ عورت کے ساتھ سونا جب کہ وہ حیض کے کپڑوں میں ہو۔ باب نمبر 279: اس بارے میں کہ جس نے (اپنی عورت کے لیے) حیض کے لیے پاکی میں پہنے جانے والے کپڑوں کے علاوہ کپڑے بنائے۔ باب نمبر 280: عیدین میں اور مسلمانوں کے ساتھ دعا میں حائضہ عورتیں بھی شریک ہوں اور یہ عورتیں نماز کی جگہ سے ایک طرف ہو کر رہیں۔ باب نمبر 281: اس بارے میں کہ اگر کسی عورت کو ایک ہی مہینہ میں تین بار حیض آئے؟ اور حیض و حمل سے متعلق جب کہ حیض آنا ممکن ہو تو عورتوں کے بیان کی تصدیق کی جائے گی۔ باب نمبر 282: اس بیان میں کہ زرد اور مٹیالا رنگ حیض کے دنوں کے علاوہ ہو (تو کیا حکم ہے؟)۔ باب نمبر 283: استحاضہ کی رگ کے بارے میں۔ باب نمبر 284: جو عورت (حج میں) طواف افاضہ کے بعد حائضہ ہو (اس کے متعلق کیا حکم ہے؟)۔ باب نمبر 285: جب مستحاضہ اپنے جسم میں پاکی دیکھے تو کیا کرے؟ باب نمبر 286: اس بارے میں کہ نفاس میں مرنے والی عورت پر نماز جنازہ اور اس کا طریقہ کیا ہے؟ باب نمبر 287: ۔۔۔ کتاب 7: تیمم کے احکام و مسائل (احادیث334سے348) باب نمبر 288: ۔۔۔ باب نمبر 289: اس بارے میں کہ جب نہ پانی ملے اور نہ مٹی تو کیا کرے؟ باب نمبر 290: اقامت کی حالت میں بھی تیمم کرنا جائز ہے۔ باب نمبر 291: اس بارے میں کہ کیا مٹی پر تیمم کے لیے ہاتھ مارنے کے بعد ہاتھوں کو پھونک کر ان کو چہرے اور دونوں ہتھیلوں پر مل لینا کافی ہے؟ باب نمبر 292: اس بارے میں کہ تیمم میں صرف منہ اور دونوں پہنچوں پر مسح کرنا کافی ہے۔ باب نمبر 293: پاک مٹی مسلمانوں کا وضو ہے پانی کے بدل وہ اس کو کافی ہے۔ باب نمبر 294: جب جنبی کو (غسل کی وجہ سے) مرض بڑھ جانے کا یا موت ہونے کا یا (پانی کے کم ہونے کی وجہ سے) پیاس کا ڈر ہو تو تیمم کر لے۔ باب نمبر 295: تیمم میں ایک ہی دفعہ مٹی پر ہاتھ مارنا کافی ہے۔ باب نمبر 296: ۔۔۔ کتاب 8: نماز کے احکام و مسائل (احادیث349سے520) کتاب 9: اوقات نماز کے بیان میں (احادیث521سے602) کتاب 10: اذان کے مسائل کے بیان میں (احادیث603سے734) کتاب-- : اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)(احادیث735سے875) کتاب 11: جمعہ کے بیان میں (احادیث876سے941) کتاب 12: نماز خوف کا بیان (احادیث942سے947) باب نمبر 858: خوف کی نماز کا بیان۔ باب نمبر 859: خوف کی نماز پیدل اور سوار رہ کر پڑھنا قرآن شریف میں «رجالا» ، «راجل» کی جمع ہے (یعنی پاپیادہ)۔ باب نمبر 860: خوف کی نماز میں نمازی ایک دوسرے کی حفاظت کرتے ہیں۔ باب نمبر 861: اس بارے میں کہ اس وقت (جب دشمن کے) قلعوں کی فتح کے امکانات روشن ہوں اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہو رہی ہو تو اس وقت نماز پڑھنے کا حکم۔ باب نمبر 862: جو دشمن کے پیچھے لگا ہو یا دشمن اس کے پیچھے لگا ہو وہ سوار رہ کر اشارے ہی سے نماز پڑھ لے۔ باب نمبر 863: حملہ کرنے سے پہلے صبح کی نماز اندھیرے میں جلدی پڑھ لینا اسی طرح لڑائی میں (طلوع فجر کے بعد فوراً ادا کر لینا)۔ کتاب 13: عیدین کے مسائل کے بیان میں (احادیث948سے989) کتاب 14: نماز وتر کے مسائل کا بیان (احادیث990سے1004) باب نمبر 905: وتر کا بیان۔ باب نمبر 906: وتر پڑھنے کے اوقات کا بیان۔ باب نمبر 907: وتر کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر والوں کو جگانا۔ باب نمبر 908: نماز وتر رات کی تمام نمازوں کے بعد پڑھی جائے۔ باب نمبر 909: نماز وتر سواری پر پڑھنے کا بیان۔ باب نمبر 910: نماز وتر سفر میں بھی پڑھنا۔ باب نمبر 911: (وتر اور ہر نماز میں) قنوت رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد پڑھ سکتے ہیں۔ کتاب 15: استسقاء یعنی پانی مانگنے کا بیان (احادیث1005سے1039) باب نمبر 000: پانی مانگنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پانی کے لیے (جنگل میں) نکلنا۔ باب نمبر 000: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قریش کے کافروں پر بددعا کرنا کہ الٰہی ان کے سال ایسے کر دے جیسے یوسف علیہ السلام کے سال (قحط) کے گزرے ہیں۔ باب نمبر 000: قحط کے وقت لوگ امام سے پانی کی دعا کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں۔ باب نمبر 000: استسقاء میں چادر الٹنا۔ باب نمبر 000: جب لوگ اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کا خیال نہیں رکھتے تو اللہ تعالیٰ قحط بھیج کر ان سے بدلہ لیتا ہے۔ باب نمبر 000: جامع مسجد میں استسقاء یعنی پانی کی دعا کرنا ۔ باب نمبر 000: جمعہ کا خطبہ پڑھتے وقت جب منہ قبلہ کی طرف نہ ہو پانی کے لیے دعا کرنا ۔ باب نمبر 000: منبر پر پانی کے لیے دعا کرنا۔ باب نمبر 000: پانی کی دعا کرنے میں جمعہ کی نماز کو کافی سمجھنا (یعنی علیحدہ استسقاء کی نماز نہ پڑھنا اور اس کی نیت کرنا یہ بھی استسقاء کی ایک شکل ہے) ۔ باب نمبر 000: اگر بارش کی کثرت سے راستے بند ہو جائیں تو پانی تھمنے کی دعا کر سکتے ہیں ۔ باب نمبر 000: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن مسجد ہی میں پانی کی دعا کی تو چادر نہیں الٹائی۔ باب نمبر 000: جب لوگ امام سے دعائے استسقاء کی درخواست کریں تو رد نہ کرئے ۔ باب نمبر 000: اس بارے میں کہ اگر قحط میں مشرکین مسلمانوں سے دعا کی درخواست کریں ۔ باب نمبر 000: جب بارش حد سے زیادہ ہو تو اس بات کی دعا کہ ہمارے یہاں بارش بند ہو جائے اور اردگرد برسے۔ باب نمبر 000: استسقاء میں کھڑے ہو کر خطبہ میں دعا مانگنا۔ باب نمبر 000: استسقاء کی نماز میں بلند آواز سے قرآت کرنا ۔ باب نمبر 000: استسقاء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف پشت مبارک کس طرح موڑی تھی؟ ۔ باب نمبر 000: استسقاء کی نماز دو رکعتیں پڑھنا ۔ باب نمبر 000: عیدگاہ میں بارش کی دعا کرنا ۔ باب نمبر 000: استسقاء میں قبلہ کی طرف منہ کرنا ۔ باب نمبر 000: استسقاء میں امام کے ساتھ لوگوں کا بھی ہاتھ اٹھانا ۔ باب نمبر 000: امام کا استسقاء میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا ۔ باب نمبر 000: مینہ برستے وقت کیا کہے ۔ باب نمبر 000: اس شخص کے بارے میں جو بارش میں قصداً اتنی دیر ٹھہرا کہ بارش سے اس کی داڑھی (بھیگ گئی اور اس) سے پانی بہنے لگا ۔ باب نمبر 000: جب ہوا چلتی ۔ باب نمبر 000: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ پروا ہوا کے ذریعہ مجھے مدد پہنچائی گئی ۔ باب نمبر 000: بھونچال اور قیامت کی نشانیوں کے بیان میں ۔ باب نمبر 000: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی «وتجعلون رزقكم أنكم تكذبون» ۔ باب نمبر 000: اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو معلوم نہیں کہ بارش کب ہو گی ۔ کتاب 16: سورج گہن کے متعلق بیان (احادیث1040سے1066) باب نمبر 000: سورج گرہن کی نماز کا بیان۔ باب نمبر 000: سورج گرہن میں صدقہ خیرات کرنا۔ باب نمبر 000: گرہن کے وقت یوں پکارنا کہ نماز کے لیے اکٹھے ہو جاؤ، جماعت سے نماز پڑھو۔ باب نمبر 000: گرہن کی نماز میں امام کا خطبہ پڑھنا۔ باب نمبر 000: سورج کا کسوف و خسوف دونوں کہہ سکتے ہیں۔ باب نمبر 000: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سورج گرہن کے ذریعہ ڈراتا ہے۔ باب نمبر 000: سورج گرہن میں عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگنا۔ باب نمبر 000: گرہن کی نماز میں لمبا سجدہ کرنا۔ باب نمبر 000: سورج گرہن کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا۔ باب نمبر 000: سورج گرہن میں عورتوں کا مردوں کے ساتھ نماز پڑھنا۔ باب نمبر 000: جس نے سورج گرہن میں غلام آزاد کرنا پسند کیا (اس نے اچھا کیا)۔ باب نمبر 000: کسوف کی نماز مسجد میں پڑھنی چاہیے۔ باب نمبر 000: سورج گرہن کسی کے مرنے یا پیدا ہونے سے نہیں لگتا۔ باب نمبر 000: سورج گرہن میں اللہ کو یاد کرنا۔ باب نمبر 000: سورج گرہن میں دعا کرنا۔ باب نمبر 000: گرہن کے خطبہ میں امام کا «أما بعد» کہنا۔ باب نمبر 000: چاند گرہن کی نماز پڑھنا۔ باب نمبر 000: گرہن کی نماز میں پہلی رکعت کا لمبا کرنا۔ باب نمبر 000: گرہن کی نماز میں بلند آواز سے قرآت کرنا۔ کتاب 17: سجود قرآن کے مسائل (احادیث1067سے1079) باب نمبر 000: سجدہ تلاوت اور اس کے سنت ہونے کا بیان۔ باب نمبر 000: سورۃ الم تنزیل میں سجدہ کرنا۔ باب نمبر 000: سورۃ ص میں سجدہ کرنا۔ باب نمبر 000: سورۃ النجم میں سجدہ کا بیان۔ باب نمبر 000: مسلمانوں کا مشرکوں کے ساتھ سجدہ کرنا حالانکہ مشرک ناپاک ہے (اس کو وضو کہاں سے آیا)۔ باب نمبر 000: سجدہ کی آیت پڑھ کر سجدہ نہ کرنا۔ باب نمبر 000: سورۃ اذا السماء انشقت میں سجدہ کرنا۔ باب نمبر 000: سننے والا اسی وقت سجدہ کرے جب پڑھنے والا کرے۔ باب نمبر 000: امام جب سجدہ کی آیت پڑھے اور لوگ ہجوم کریں تو بہرحال سجدہ کرنا چاہیے۔ باب نمبر 000: اس شخص کی دلیل جس کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے سجدہ تلاوت کو واجب نہیں کیا۔ باب نمبر 000: جس نے نماز میں آیت سجدہ تلاوت کی اور نماز ہی میں سجدہ کیا۔ باب نمبر 000: جو شخص ہجوم کی وجہ سے سجدہ تلاوت کی جگہ نہ پائے۔ کتاب 18: نماز میں قصر کرنے کا بیان (احادیث1080سے1119) کتاب 19: تہجد کا بیان (احادیث1120سے1187) کتاب 20: مکہ و مدینہ میں نماز کی فضیلت (احادیث1188سے1197) باب نمبر 000: مکہ اور مدینہ کی مساجد میں نماز کی فضیلت کا بیان۔ باب نمبر 000: مسجد قباء کی فضیلت۔ باب نمبر 000: جو شخص مسجد قباء میں ہر ہفتہ حاضر ہوا۔ باب نمبر 000: مسجد قباء آنا کبھی سواری پر اور کبھی پیدل۔ باب نمبر 000: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف اور منبر مبارک کے درمیانی حصہ کی فضیلت کا بیان۔ باب نمبر 000: بیت المقدس کی مسجد کا بیان۔